کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 183
عَنْ نَافِعٍ رَحِمَہُ اللّٰہ اَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا جَائَ ہٗ رَجُلٌ فَقَالَ اِنَّ فُلاَ نًا یَقْرَأُ عَلَیْکَ السَّلاَمَ،فَقَالَ لَہٗ أَنَّہٗ بَلَغَنِیْ أَنَّہٗ قَدْ اَحْدَثَ فَاِنْ کَانَ قَدْ اَحْدَثَ فَلاَ تَقْرِئْہٗ مِنِّی السَّلاَمَ۔رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ[1] حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت عبدا للہ بن عمر رَضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا ’’فلاں آدمی نے آپ کو سلام کہا ہے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمر رَضی اللہ عنہما نے فرمایا ’’میں نے سنا ہے کہ اس نے بدعت ایجاد کی ہے،اگر یہ صحیح ہے تو اسے میری طرف سے سلام مت پہنچانا۔‘‘ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 204:اہل ایمان کو فاسق اور فاجر لوگوں کی مجالس سے دور رہنا چاہئے اور ان کی دعوت وغیرہ قبول نہیں کرنی چاہئے۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ فَلاَ یَقْعُدْ عَلٰی مَائِدَۃِ یُدَارُ عَلَیْہَا بِالْخَمْرِ))رَوَاہُ اَحْمَد[2](صحیح) حضرت عبداللہ بن عمر رَضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب رکھی گئی ہو۔‘‘ اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم نَہٰی عَنْ طَعَامِ الْمُتَبَارِ یِیْنَ اَنْ یُّؤْکَلَ۔رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗد[3] (صحیح) حضرت عبداللہ بن عباس رَضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باہم فخر جتلانے والوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے۔‘‘ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ [1] مشکوۃ المصابیح ، للالبانی ، الجزء الاول ، رقم الحدیث 116. [2] مشکوۃ المصابیح ، للالبانی ، الجزء الاول ، رقم الحدیث 118. [3] ارواء الغلیل ، للالبانی ، 7؍6.