کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 180
حُکْمُ الْبَرَاءِ عَنِ الْمُنَــافِقِیْنَ منافقین سے براء ت کا حکم مسئلہ 198:منافقوں سے قطع تعلق کا حکم ہے۔ ﴿وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَۃٌ ز فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِکَ بَیَّتَ طَآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ ط وَ اللّٰہُ یَکْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ ج فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلاً﴾(81:4) ’’ اور(منافق)کہتے ہیں ہم آپ کے فرمانبردار ہیں لیکن جب(آپ کی مجلس سے اٹھ کر)باہر جاتے ہیں تو ان کا ایک گروہ راتوں کو جمع ہو کر تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتا ہے جو مشورے وہ کرتے ہیں اللہ ان سب کو لکھ رہا ہے تم ان سے منہ پھیر لواور اللہ پرتوکل کرو،کارسازی کے لئے وہی کافی ہے۔‘‘(سورۃ النساء،آیت نمبر81) مسئلہ 199:منافقین سے اللہ تعالیٰ کی بیزاری،دشمنی اور نفرت۔ 1 ﴿اِسْتَغْفِرْلَہُمْ اَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْلَہُمْ ط اِنْ تَسْتَغْفِرْلَہُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَہُمْ ط ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَفَرُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ ط وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ﴾(80:9) ’’آپ ان(منافقین)کے لئے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں(برابر ہے)اگر آپ ان کے لئے ستر مرتبہ بھی دعا مغفرت کریں تو اللہ انہیں معاف نہیں فرمائے گا یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا کفر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘(سورۃ التوبہ،آیت نمبر80) 2 ﴿سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ لَکُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْہِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْہُمْ ط فَاَعْرِضُوْا عَنْہُمْ ط اِنَّہُمْ رِجْسٌ ز وَّ مَاْوٰہُمْ جَہَنَّمُ ج جَزَآئً م بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ﴾(95:9) ’’جب تم جنگ سے پلٹ کر ان کے پاس آؤ گے تو وہ تمہارے پاس آ کر اللہ کی قسمیں کھائیں گے