کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 174
وضاحت: یاد رہے طاغوت سے مراد وہ ائمہ کفر ہیں جو کافرانہ نظام زبردستی مسلمانوں پر نا فذکرنا چاہتے ہیں۔ مسئلہ 188:اللہ تعالیٰ کی مشرکوں سے بیزاری،نفرت اور دشمنی۔ 1 ﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلاَ یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا ج﴾(28:9) ’’اے لوگو،جو ایمان لائے ہو!مشرک پلید ہیں لہٰذا اس سال کے بعد یہ لوگ مسجد حرام کے قریب بھی نہ پھٹکنے پائیں۔‘‘(سورۃ التوبہ،آیت نمبر28) 2 ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَہُمْ کُفَّارٌ اُولٰٓئِکَ عَلَیْہِمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ﴾(161:2) ’’بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور کفر کی حالت میں مرے ان پر اللہ کی،فرشتوں کی اور سارے لوگوں کی لعنت ہے۔‘‘(سورۃ البقرۃ،آیت نمبر161) 3 ﴿ صُمٌّ م بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لاَ یَعْقِلُوْنَ﴾(171:2) ’’کافربہرے،گونگے ہیں اور اندھے ہیں عقل سے کام نہیں لیتے۔‘‘(سورۃ البقرۃ،آیت نمبر171) 4 ﴿ اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَکْثَرَہُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ ط اِنْ ہُمْ اِلَّا کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ سَبِیْلاً ﴾(44:25) ’’اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کافروں کی اکثریت آپ کی بات سنتی یا سمجھتی ہے ؟(ہر گز نہیں)یہ تو جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر اور گئے گزرے ہیں۔‘‘(سورۃ الفرقان،آیت نمبر44) 5 ﴿اِنَّ شَرَّالدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم لَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَہُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ﴾(55:8) ’’بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سے سب سے بدتر مخلوق وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اب وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘(سورۃ الانفال،آیت نمبر55) 6 ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وََرَسُوْلَہٗ اُولٰٓئِکَ فِی الْاَذَلِّیْنَ﴾(20:58) ’’وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں وہ لوگ ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں۔‘‘(سورۃ المجادلہ،آیت نمبر20) 7 ﴿قُلْ ہَلْ اُنَبِّئُکُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِکَ مَثُوْبَۃً عِنْدَ اللّٰہِ ط مَنْ لَّعَنَہُ اللّٰہُ وَ غَضِبَ عَلَیْہِ وَ