کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 163
نَہْیُ الْـــوَلاَءِ عَنِ الْـــکُـفَّـــارِ کفار سے دوستی کی ممانعت مسئلہ 168:اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی کا رویہ رکھنے والے کا فروں سے دوستی کرنا منع ہے۔ 1 ﴿اِنَّمَا یَنْہٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ قَاتَلُوْکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَاَخْرَجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ وَظَاہَرُوْا عَلٰٓی اِخْرَاجِکُمْ اَنْ تَوَلَّوْہُمْ ج وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴾(9:60) ’’اللہ تعالیٰ تمہیں ان کافروں کے ساتھ دو ستی کرنے سے منع فرماتا ہے جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے اخراج میں ایک دوسرے کی مدد کی،جو لوگ ایسے کافروں سے دوستی کریں گے وہ ظالم ہیں۔‘‘(سورۃ الممتحنہ،آیت نمبر8) 2 ﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوا الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ط اَ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا﴾(144:4) ’’اے لوگو،جو ایمان لائے ہو!مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے خلاف(عذاب کے لئے)صریح حجت دے دو۔‘‘(سورۃ النساء،آیت نمبر144) 3 ﴿یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوا الْیَہُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآئَ م بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ ط وَ مَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ﴾(51:5) ’’اے لوگو،جو ایمان لائے ہو!یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست نہ بناؤ یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں تم میں سے جو شخص انہیں دوست بنائے گا اس کا شمار بھی انہیں میں سے ہوگا۔یقینا اللہ تعالیٰ(ایسے)ظالموں کی راہنمائی نہیں فرماتا۔‘‘(سورۃ المائدہ،آیت نمبر51) 4 ﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ہُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا