کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 143
کہ ایسے نیک عمل کروں جن سے تو راضی ہو،اور اپنی رحمت سے مجھے نیک بندوں میں شامل فرما دے۔‘‘(سورۃ النمل،آیت نمبر19) مسئلہ 137:حضرت یوسف علیہ السلام کی نیک اور صالح لوگوں سے محبت۔ ﴿رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْکِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِج فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ قف اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ج تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِی بِالصّٰلِحِیْنَ﴾(101:12) ’’اے میرے رب!تو نے مجھے حکومت بھی عطافرمائی اور خوابوں کی تعبیر کا علم بھی دیا زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے دنیا اور آخرت میں تو ہی میرا سرپرست ہے،میرا خاتمہ اسلام پر کر او رمجھے نیک لوگوں میں شامل فرمادے۔‘‘(سورۃ یوسف،آیت نمبر101) مسئلہ 138:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انصار اور مہاجرین سے محبت۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضی اللّٰه عنہ قَالَ:جَائَ نَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم وَ نَحْنُ نَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَ نَنْقُلُ التُّرَابَ عَلٰی اَکْتَافِنَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم((أَللّٰہُمَّ لاَ عَیْشَ اِلاَّ عَیْشَ الْاٰخِرَۃِ فَاغْفِرْ لِلْمُہَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ))رَوَاہُ مُسْلِمٌ[1] حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے،اس وقت ہم خندق کھود کر مٹی اپنے کاندھوں پر ڈھو رہے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’یا اللہ!زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے،یا اللہ!انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرمادے۔‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 139:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اہل ایمان سے محبت۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ البَّنِیَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم تَلاَ قَوْلَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فِیْ إِبْرَاہِیْمَ﴿رَبِّ إِنَّہُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ ج فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ ج وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴾اَلْاٰیَۃَ(36:14)وَ قَالَ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ﴿اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ ج وَ اِنْ تَغْفِرْلَہُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ﴾(118:5)فَرَفَعَ یَدَیْہِ وَ قَالَ((اَللّٰہُمَّ اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ))وَ بَکٰی فَقَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَا جِبْرِیْلُ اذْہَبْ إِلٰی مُحَمَّدٍ وَ رَبُّکَ اَعْلَمُ فَسَلْہُ مَا یُبْکِیْکَ فَأَتَاہُ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَسَأَلَہٗ فَأَخْبَرَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم بِمَا قَالَ وَ ہُوَ أَعْلَمُ فَقَالَ اللّٰہُ یَا جِبْرِیْلُ اذْہَبْ إِلٰی مُحَمَّدٍ فَقُلْ إِنَّا سَنُرْضِیْکَ فِیْ اُمَّتِکَ وَ لاَ نَسُوْئُ کَ)) [1] کتاب الایمان ، باب دعا ء النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم لامتہ و بکائہ شفقۃ علیہم.