کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 139
او رلوگوں کو پھلانگتا ہوا آگے بڑھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر بیٹھ گیا۔وہ آدمی کانپ رہا تھا،عرض کرنے لگا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں ہوں اس کا قاتل،وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیا ں بکتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتی تھی،میں اسے منع کرتا لیکن وہ باز نہ آتی میں اسے ڈانٹتا لیکن وہ پھر بھی منع نہ ہوتی حالانکہ اس سے میرے موتیوں جیسے(خوبصورت)دو بیٹے بھی ہیں وہ میری(اچھی)رفیقہ تھی لیکن کل رات جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں بکنے لگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرنے لگی تو میں نے چھرا پکڑا اور اس کے پیٹ میں گھونپ دیا اورزور سے دبایا،حتی کہ میں نے اسے قتل کردیا۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’لوگو،سنو!گواہ رہنا اس لونڈی کا خون رائیگاں ہے۔‘‘(یعنی اس کا قصاص نہیں لیا جائے گا)اسے ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 127:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی شدید تمنا رکھی جائے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضی اللّٰه عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَالَ((اَشَدُّ اُمَّتِیْ اِلَیَّ حُبًّا نَاسًا یَکُوْنُ بَعْدِیْ یَوَدُّ اَحَدُہُمْ لَوْ رَاٰنِیْ بِأَہْلِہٖ وَ مَالِہٖ))رَوَاہُ مُسْلِمٌ[1] حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میرے بعد میری امت میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو مجھ سے اس قدر شدید محبت کرتے ہوں گے کہ ان میں سے کوئی یہ خواہش رکھے گا کہ اپنا اہل و عیال او رمال و منال سب کچھ صدقہ کرکے میری زیارت کرے۔‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا جائے۔ مسئلہ 128:عَنْ عَلِیٍّ رَضی اللّٰه عنہ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم((اَلْبَخِیْلُ الَّذِیْ مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہٗ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ))رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ [2] (صحیح) حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ میرے اوپر درود نہ بھیجے وہ بخیل ہے۔‘‘ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [1] کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمہا، باب فیمن یود رویۃ النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم باہلہ و مالہ. [2] صحیح سنن الترمذی، للالبانی، الجزء الثالث ، رقم الحدیث 2811.