کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 136
وقت)اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی تلاش میں رہتے ہیں۔اللہ اور اس کے رسول کی نصرت کرتے ہیں یہی لوگ سچے(ایمان والے)ہیں۔‘‘(سورۃ الحشر،آیت نمبر8) وضاحت: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کا علم حاصل کرنا،اس پر عمل کرنا،اس کو پھیلانا اور اسے غالب کرنے کی جدوجہد کرنا ہے۔ مسئلہ 124:دل و جان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور احترام کیا جائے۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللّٰه عنہ اَنَّہٗ قَالَ:لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْاٰیَۃُ﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَرْفَعُوْا اَصْوٰتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ﴾]الحجرات:[2 اِلٰی اٰخِرِ الْاٰیَۃِ۔جَلَسَ ثَابِتُ(بْنُ قَیْسٍص)فِیْ بَیْتِہٖ وَ قَالَ اَنَا مِنْ أَہْلِ النَّارِ،وَاحْتَبَسَ(ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ رضی اللّٰه عنہ)عَنِ النَّبِیِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَسَأَلَ النَّبِیُّا سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ،فَقَالَ((یَا اَبَا عَمْرٍو!مَا شَأْنُ ثَابِتٍ اَشْتَکٰی))قَالَ سَعْدٌ رضی اللّٰه عنہ:اِنَّہٗ لَجَارِی وَ مَا عَلِمْتُ لَہٗ بِشَکْوٰی،قَالَ:فَأَتَاہُ سَعْدٌ فَذَکَرَ لَہٗ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَقَالَ ثَابِتٌ رضی اللّٰه عنہ:اُنْزِلَتْ ہٰذِہِ الْاٰیَۃُ وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ اَنِّیْ مِنْ اَرْفَعِکُمْ صَوْتًا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَأَنَا مِنْ أَہْلِ النَّارِ،فَذَکَرَ ذٰلِکَ سَعْدٌ لِلنَّبِیِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم((بَلْ ہُوَ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ))رَوَاہُ مُسْلِمٌ[1] حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی ’’اے لوگو،جو ایمان لائے ہو!اپنی آواز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آوازسے اونچی نہ کرو۔‘‘(سورۃ الحجرات،آیت نمبر2)تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اپنے گھر بیٹھ گئے(حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کی آواز قدرتی طورپر اونچی تھی)او رکہنے لگے ’’میں تو آگ والوں میں سے ہوں۔‘‘ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنا جلنا ترک کردیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا ’’اے ابو عمرو رضی اللہ عنہ!(حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی کنیت)ثابت کہا ں ہے،کیا بیمار ہے؟‘‘ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ’’وہ میرا ہمسایہ ہے اور میرے علم کی حد تک تو بیمار نہیں۔‘‘ چنانچہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ،حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کے گھرآئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کا تذکرہ کیا۔حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کہنے لگے ’’فلاں آیت نازل ہوئی ہے اور تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں میری آواز تم سب لوگوں سے زیادہ اونچی ہے میں تو جہنمی ہوگیا۔‘‘ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے(واپس آ کر)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کاذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’نہیں وہ تو جنتی ہے۔‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [1] کتاب الایمان ، باب مخافۃ المؤمن من ان یحبط عملہ.