کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 135
یَنْقُصُ مِنْ اُجُوْرِہِمْ شَیْئًا))رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ [1](صحیح) حضرت کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف مزنی فرماتے ہیں کہ مجھے میرے باپ نے،میرے دادا سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس نے میری سنتوں میں سے کوئی ایک سنت زندہ کی اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو سنت زندہ کرنے والے کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس سنت پر عمل کرنے و الے تمام لوگوں کو ملے گا جبکہ لوگوں کے اپنے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں کی جائے گی‘‘ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 122:جس بات سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اظہار بیزاری فرمائیں اس سے اظہار بیزاری کیا جائے۔ عَنْ اَبِیْ بَرْدَۃَ بْنِ اَبِیْ مُوْسٰی رضی اللّٰه عنہ قَالَ:وَجِعَ اَبُوْ مُوْسٰی وَجْعًا فَغُشِیَ عَلَیْہِ وَ رَأْسُہٗ فِیْ حِجْرِ امْرَأَۃٍ مِنْ اَہْلِہٖ فَصَاحَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ أَہْلِہٖ فَلَمْ یَسْتَطِعْ اَنْ یُّرَدَّ عَلَیْہَا شَیْئًا فَلَمَّا اَفَاقَ قَالَ اَنَا بَرِیْئٌ مِّمَّا بَرِئَ مِنْہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ بَرِئَ مِنَ الصَّالِقَۃِ وَ الْحَالِقَۃِ وَالشَّاقَّۃِ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ[2] حضرت ابو بردہ بن ابو موسیٰ(اشعری)رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو شدید درد ہوا جس سے وہ بے ہوش ہوگئے ان کا سر ان کے گھر والوں میں سے ایک خاتون کی گود میں تھا ایک خاتون نے چلانا شروع کردیا۔حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ(غشی کی وجہ سے)اسے روک نہ سکے۔جب ہوش آیا تو فرمانے لگے ’’جس بات سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیزار ہوں میں بھی اس سے بیزار ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چلانے والی،بال نوچنے والی اور کپڑے پھاڑنے والی(عورت سے)اظہار بیزاری فرمایا ہے۔‘‘اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 123:آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کی جائے۔ ﴿لِلْفُقَرَآئِ الْمُہٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ وَ اَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ ط اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ﴾(8:59) ’’(مال فے)ان فقراء مہاجرین کے لئے ہے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے ہیں(ہر [1] صحیح سنن ابن ماجۃ، للالبانی ، الجزء الاول ، رقم الحدیث 173. [2] کتاب الایمان ، باب تحریم ضرب الخدود و شق الجیوب.