کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 122
وجہ سے غش آنے لگا اس کا ایک بیٹا جس کانام عمارہ تھا،وہ کھڑا ہوا اور اس نے اپنی ماں کو پانی پلایا(ہوش میں آنے کے بعد)ماں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لئے بددعا کی تب اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ آیت نازل فرمائی ’’اور ہم نے انسان کو والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی تاکید کی لیکن اگر وہ تجھے مجبور کریں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک کرے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کی بات نہ مان۔‘‘(سورہ العنکبوت،آیت نمبر8)اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 101:زیادہ سے زیادہ نفلی عبادت کی جائے۔ وضاحت: حدیث مسئلہ نمبر 84؍85کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔ مسئلہ 102:اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے معاملے میں کسی کی ملامت یا مذمت کی پروانہ کی جائے۔ عَنْ عُبَادَۃَ ابْنِ الصَّامِتِ رَضی اللّٰه عنہ قَالَ بَا یَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَلٰی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِیْ الْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَہِ وَاَنْ لاَّ نُنَازِعَ الْاَمْرَ اَہْلَہٗ وَاَنْ نَّقُوْمَ اَوْ نَّقُوْلَ بِالْحَقِّ حَیْثُمَا کُنَّا لاَ نَخَافُ فِیْ اللّٰہِ لَوْمَۃَ لاَئِمٍ۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[1] حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے اچھے اور برے حالات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سننے اور ماننے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور اس بات پربیعت کی کہ امارت(یعنی حکومت)کے جو اہل ہوگا اس سے جھگڑا نہیں کریں گے اور جہاں کہیں بھی ہوں گے حق پر ڈٹے رہیں گے یا حق بات کہیں گے اور اس بات پر بھی بیعت کی کہ اللہ کی راہ میں ہم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔‘‘اسے بخاری نے روایت کیاہے۔ مسئلہ 103:اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے مصائب و آلام پر صبر کیاجائے۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضی اللّٰه عنہ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم اَنَّہٗ قَالَ:((عَظْمُ الْجَزَائِ مَعَ عَظْمِ الْبَلاَئِ وَ اِنَّ اللّٰہَ اِذَا اَحَبَّ قَوْمًا اِبْتِلاَئَ ہُمْ فَمَنْ رَضِیَ فَلَہُ الرَّضَّا وَ مَنْ سَخِطَ فَلَہُ السُّخْطُ))رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ [2] (حسن) [1] کتاب الاحکام باب کیف یبایع الامام الناس. [2] کتاب الفتن ، باب الصبر علی البلاء(2؍3256).