کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 116
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَرضی اللّٰه عنہ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم((اِنَّ اللّٰہَ اِذَا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِیْلَ فَقَالَ:اِنِّیْ اَحَبُّ فُلاَ نًا فَأَحِبَّہٗ،قَالَ:فَیُحِبُّہٗ جِبْرِیْلُ عَلَيْهِ السَلَامُ ثُمَّ یُنَادِیْ فِی السَّمَائِ فَیَقُوْلُ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُلاَ نًا فَأَحِبُّوْہُ فَیُحِبُّہٗ أَہْلُ السَّمَائِ قَالَ:ثُمَّ یُوْضَعُ لَہُ الْقَبُوْلُ فِی الْأَرْضِ))رَوَاہُ مُسْلِمٌ[1] حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتے ہیں تو جبریل علیہ السلام کو بلا کر فرماتے ہیں میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر،چنانچہ جبریل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور(ساتھ ہی)آسمان میں اعلان کرتے ہیں کہ فلاں شخص سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتے ہیں تم بھی اس سے محبت کرو،چنانچہ آسمان والے(سب کے سب)اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔پھر زمین میں اس کے لئے قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 87:اللہ تعالیٰ سے محبت مومن کو ایمان کامل کے درجہ تک پہنچا دیتی ہے۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ رَضی اللّٰه عنہ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم اَنَّہٗ قَالَ((مَنْ اَحَبَّ لِلّٰہِ وَاَبْغَضَ لِلّٰہِ وَ اَعْطٰی لِلّٰہِ وَ مَنَعَ لِلّٰہِ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ الْاِیْمَانَ))رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ[2](صحیح) حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس شخص نے اللہ(کی رضا)کے لئے محبت کی،اللہ کے لئے غصہ کیا،اللہ کے لئے دیا اور اللہ کے لئے نہ دیا اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا۔‘‘ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم((اَوْثَقُ عُرَی الْاِیْمَانِ اَلْمَوَالاَۃُ فِی اللّٰہِ وَالْمُعَادَاۃُ فِی اللّٰہِ وَالْحُبُّ فِی اللّٰہِ وَ الْبُغْضُ فِی اللّٰہِ))رَوَاہُ الطَّبَرَانِیُّ[3] (حسن) حضرت عبداللہ بن عباس رَضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ایمان کا سب سے مضبوط کڑا اللہ(کی رضا)کے لئے دوستی کرنا،اللہ کے لئے دشمنی رکھنا،اللہ کے لئے محبت کرنا اور اللہ کے لئے غصہ کرنا [1] کتاب الذکر والدعا ، باب من احب لقاء اللّٰه . [2] کتاب السنۃ ، باب فی رد الارجاء. [3] کتاب الاجارہ، باب فی الرہن (2؍3012).