کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 115
سوائے عالم دین اور طالب علم کے۔‘‘ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 84:اللہ سے دوستی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ گناہوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ مسئلہ 85:اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ دعائیں قبول فرماتے ہیں۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضی اللّٰه عنہ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم((اِنَّ اللّٰہَ قَالَ:مَنْ عَادَی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ اٰذَنْتُہٗ بِالْحَرْبِ وَ مَا تَقَرَّبَ اِلَیَّ عَبْدِیْ بِشَیْئٍ اَحَبَّ اِلَیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُہٗ عَلَیْہِ وَ مَا زَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اُحِبُّہٗ فَاِذَا اَحْبَبْتُہٗ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہٖ وَ بَصَرُہُ الَّذِیْ یُبْصِرُ بِہٖ وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِہَا وَ رِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِہَا وَ اِنْ سَأَلَتِنْی وَلاَعْطِیَنَّہٗ وَ لَئِنْ اسْتَعَاذَ نِیْ لَأُعِیْذَنَّہٗ))رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[1] حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس نے میرے دوست سے دشمنی کی اس کے خلاف میرا اعلان جنگ ہے،میرا بندہ جن عبادتوں کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں سے مجھے سب سے زیادہ پسند فرض عبادتیں ہیں(فرضوں کے بعد)نفل عبادت کرتے کرتے بندہ میرے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں بندے سے محبت کرنے لگتا ہوں تو اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ(صرف وہی کچھ)سنتا ہے(جس کی میں نے اجازت دی ہے)میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ(صرف وہی کچھ)دیکھتا ہے(جس کی میں نے اجازت دی ہے)اور اس کا ہاتھ بن جاتاہوں جس سے وہ(صرف اسے ہی)پکڑتا ہے(جس کی میں نے اجازت دی ہے)اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ(صرف اسی طرف)چل کر جاتا ہے(جس کی طرف جانے کی میں نے اجازت دی ہے)اور جب وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں اور جب وہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے تو اسے ضرور پناہ دیتا ہوں۔‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 86:اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والے کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور آسمانوں کے سارے فرشتے محبت کرتے ہیں اور زمین والوں کے درمیان بھی اسے ہر دلعزیز بنا دیا جاتا ہے۔ [1] کتاب الرقاق ، باب التواضع.