کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 113
میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عنایت فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا اور علم والا ہے۔‘‘(سورۃ المائدہ،آیت نمبر54) عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِص قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم((مَنْ أَحَبَّ لِقَائَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم َٔحَبَّ اللّٰہُ لِقَائَ ٗہ مَنْ کَرِہَ لِقَائَ اللّٰہِ کَرِہَ اللّٰہُ لِقَائَ ہٗ))رَوَاہُ مُسْلِمٌ [1] ’’حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کومحبوب رکھتا ہے،جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات پسندنہیں کرتا اللہ بھی اس سے ملاقات پسند نہیں کرتا۔‘‘اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 80:اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے محبت کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین عمل ہے۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ رضی اللّٰه عنہ قَالَ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَالَ((أَ تَدْرُوْنَ اَیُّ الْاَعْمَالِ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی ؟))قَالَ قَائِلٌ:أَلصَّلاَۃُ وَالزَّکَاۃُ،وَ قَالَ قَائِلٌ:أَلْجِہَادُ،قَالَ النَّبِیُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم((اِنَّ اَحَبَّ الْاَعْمَالِ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی أَلْحُبُّ فِی اللّٰہِ وَالْبُغْضُ فِی اللّٰہِ))رَوَاہُ اَحْمَدُ[2] حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا ’’جانتے ہو اللہ کے نزدیک محبوب ترین عمل کون سا ہے؟‘‘ کسی نے جواب دیا ’’نماز اور زکاۃ۔‘‘ کسی نے عرض کیا ’’ جہاد۔‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین عمل یہ ہے کہ اللہ کی رضا کے لئے محبت کی جائے اور اللہ کی رضا کے لئے غصہ کیا جائے۔‘‘ اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 81:اللہ کے لئے محبت کرنے والوں کے چہرے قیامت کے روز اس قدر نورانی ہوں گے کہ انبیاء اور شہداء بھی ان کے درجات کی تحسین فرمائیں گے۔ عَنْ عُمَرَ رَضی اللّٰه عنہ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم((اِنَّ مِنْ عِبَادِ اللّٰہِ لَاُنَاسًا مَّا ہُمْ بِاَنْبِیَائِ وَ لاَ شُہَدَائِ یَغْبِطُہُمُ الْاَنْبِیَائُ وَالشُّہَدَائُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِمَکَانِہِمْ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی))قَالُوْا:یَا رَسُوْلَ [1] کتاب الرقاق ، باب من احب لقاء اللّٰه احب اللّٰه لقاء ہ. [2] مشکوۃ المصابیح ، للالبانی ، کتاب الآداب ، باب الحب فی اللّٰه (3؍5021).