کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 107
أَہَمِّیَّـــۃُ الْوَلاَءِ دوستی کی اہمیت مسئلہ 67:دوستی انسان کے دین کو بدل دیتی ہے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضی اللّٰه عنہ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم((أَلرَّجُلُ عَلٰی دِیْنِ خَلِیْلِہٖ فَلْیَنْظُرْ اَحَدُکُمْ مَنْ یُخَالِلُ))رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ [1] (حسن) ’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے لہٰذا ہر آد می کو سوچنا چاہئے کہ وہ کسے اپنا دوست بنا رہا ہے۔‘‘ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 68:اچھی یا بری دوستی انسان کے عقائد اور اعمال پر اثرانداز ہوتی ہے۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی رَضی اللّٰه عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَالَ((مَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْئِ کَحَامِلِ الْمِسْکِ وَ نَافِخِ الْکِیْرِ فَحَامِلُ الْمِسْکِ اِمَّا اَنْ یُحْذِیَکَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْہُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْہُ رِیْحًا طَیِّبَۃً وَنَافِخُ الْکِیْرِ اِمَّا اَنْ یُحْرِقَ ثِیَابَکَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ رِیْحًا خَبِیْثَۃً))رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[2] ’’حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’نیک اور برے دوست کی مثال ایسی ہے جیسے مشک فروش اور بھٹی میں پھونک مارنے والا۔مشک فروش(سے دوستی کرو گے تو وہ تمہیں)مشک کا ہدیہ دے گا یا تم خوداس سے مشک خریدلوگے اگر وہ ہدیہ نہ دے اورتم خود بھی نہ خریدو(تب بھی اس کے پاس بیٹھنے سے کم از کم)عمدہ خوشبو سے ہی لطف اندوز ہوتے رہوگے(اگر لوہار کے پاس بھٹی پرجا کر بیٹھو گے)بھٹی میں پھونک مارنے والا آگ کے چنگارے اڑا کر تمہارے کپڑے جلائے گا اگر کپڑے نہ جلے تو بھٹی کا دھواں تو ضرور ہی ناک میں دم کرے گا۔‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 69:دوستی انسان کے انجام پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ [1] ابواب الزہد ، رقم الباب 32. [2] کتاب الذبائح ، باب المسک.