کتاب: دل کا بگاڑ - صفحہ 591
’’ لوگ کہتے ہیں کہ مجھ میں تکبر ہے حالانکہ میں گدھے پر سوار ہوا۔ موٹی چادر لباس کے طور پر استعمال کی اور بکری کا دودھ دوھویا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:’’ جس نے یہ کام کیے اس میں کسی قسم کا تکبر نہیں۔‘‘
مشکل الفاظ کے معانی:
( فِيَّ التِیہ): یعنی میرے نفس میں تکبر ہے۔ التیہ: تکبر کو کہتے ہیں۔
(لَبِسْتُ الشَّمْلَۃَ): شملہ اس موٹے کپڑے کو کہتے ہیں جس سے سر ڈھانپا جاتا ہے، اور اسے سر پر بطور پگڑی کے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ [اور اسی میں بوقت ضرورت سامان وغیرہ بھی باندھا جاتاہے ]۔
(مَنْ فَعَلَ ہٰذَا): جس نییہ مذکورہ کام کیے۔ یعنی گدھے پر سواری کی ، موٹا لباس پہنا، اور بکری کا دودھ خود نکال لیا۔
(فَلَیْسَ فِیہِ مِنَ الْکِبْرِ شَیْئٍ): یہ کام کرنے والوں میں کچھ بھی چیز تکبر کی نہیں ہے۔ اس لیے کہ ان کاموں کے کرنے سے وہی لوگ کتراتے ہیں جن کے دل میں تکبر ہوتا ہے۔[1]
سیّدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا گزر بازار میں ہوا ، اور آپ اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا ایک گھٹا اٹھائے ہوئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو تو ایسی چیزوں سے بے نیاز کردیا ہے ، پھر آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ نے فرمایا: اس لیے کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنے نفس کے تکبر کا علاج کروں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
’’ وہ انسان جنت میں داخل نہیں ہوگا ، جس کے دل میں ایک ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا۔‘‘[2]
[1] تحفۃ الأحوذي: ۶/۱۱۸.
[2] رواہ الطبراني: ۱۲۹وحسنہ الہیثمي في مجمع الزوائد:۱/۱۱۷.