کتاب: دل کا بگاڑ - صفحہ 590
(مِہْنَۃِ أَہْلِہِ): حدیث میں اس کی تشریح خدمت سے کی گئی ہے، اور اہل سے مراد یا تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے[یعنی اپنے ذاتی کام خود اپنے ہاتھوں سے انجام دیا کرتے تھے] یا پھر یہ لفظ عام ہے [تمام گھر والوں کو شامل ہے ]۔
شمائل ترمذی میں سیّدنا عمرہ کی روایت سے یہ حدیث سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے تفصیل کے ساتھ روایت کی گئی ہے ، اس حدیث کے یہ الفاظ ہیں:
((مَا کَانَ إِلَّا بَشَرًا مِنَ الْبَشَرِ یَفْلِيْ ثَوْبَہٗ وَیَحْلِبَ شَاتَہٗ وَیَخْدُمُ نَفْسَہٗ۔))[1]
’’ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان آدمیوں میں سے ایک تھے جو اپنے کپڑے میں خود ہی جوں تلاش کر لیتے تھے اور خود ہی بکری کا دودھ دھو لیتے تھے اور اپنے کام خود ہی کر لیتے تھے۔‘‘
مسند احمد بن حنبل اور ابن حبان کی روایت میں سیّدنا عروہ رحمہ اللہ نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے ، آپ فرماتی ہیں:
’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کپڑا خود سی لیتے ، اپنی جوتی خود گانٹھ لیتے۔‘‘[2]
اس حدیث میں تواضع کی ترغیب ، تکبر ترک کرنے اور کسی انسان کے اپنے اہل خانہ کی خدمت کرنے کا بیان ہے۔‘‘
سیّدنا نافع بن جبیر بن مطعم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا:
(( تَقُوْلُوْنَ فِي التِّـیْہُ۔ وَقَدْ رَکِبْتُ الْحِمَارَ وَلَبِسْتُ الشَّمْلَۃَ وَقَدْ حَلَبْتُ الشَّاۃُ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم : (( مَنْ فَعَلَ ہٰذَا فَلَیْسَ فِیْہِ مِنَ الْکِبْرِ شَیْئٌ۔)) [3]
[1] شمائل الترمذی: ۳۲۲.
[2] فتح الباری: ۲/۱۶۳.
[3] اسے ترمذی نے روایت کیا او رفرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی الکبر: ۲۰۰۱.