کتاب: دل کا بگاڑ - صفحہ 589
مسند احمد بن حنبل کی روایت میں ہے: (فتنطلق بہ في حاجتہا): وہ آپ کو اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے لے جایا کرتی۔‘‘
[ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس عورت کے دماغ میں خلل تھا ، اورپھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا اتنا زیادہ خیال رکھا کرتے تھے ،یہ آپ کے تواضع کی معراج ہے۔ مترجم]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع کے کئی تذکرے نقل کیے گئے ہیں۔ جن میں مرد تو مرد عورتوں کے ساتھ آپ کی تواضع نقل کی گئی ہے، اور پھر آزاد عورتیں ہی نہیں لونڈیوں کے ساتھ بھی آپ کی تواضع کے واقعات درج ہیں۔ اس حدیث میں بھی لونڈیوں کا عام ذکر ہے کہ جو عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ سے پکڑ کر جہاں چاہتی لے جاتی؛ وہ آزاد عورت نہ تھی بلکہ ایک باندی تھی۔ اور پھر حدیث کے یہ الفاظ کہ ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے پکڑ کر لے جاتی‘‘ یہ اس عورت کے انتہائی تصرف کی طرف اشارہ ہے۔ یہاں تک کہ اگر اس کی ضرورت مدینہ طیبہ سے باہر بھی ہوتی ، اور اسے اپنا کام نبھانے میں کسی کی مدد کی ضرورت ہوتی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے جاتی۔ یہ واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی تواضع و انکساری اور ہر قسم کے تکبر سے برأت پر دلالت کرتا ہے۔‘‘[1]
سیّدنا اسود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:میں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کیا کرتے تھے؟ وہ بولیں:
((کَانَ یَکُوْنُ فِيْ مِہْنَۃِ أَہْلِہٖ ، تَعْنِي خِدْمَۃَ اَہْلِہِ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ خَرَجَ إِلَی الصَّلَاۃِ۔))[2]
’’ اپنے گھر والوں کی محنت یعنی خدمت میں مصروف رہتے تھے جب نماز کا وقت آجاتا تو آپ نماز کے لیے چلے جاتے۔‘‘
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[1] فتح الباری:۱۰/۶۷۶.
[2] صحیح بخاری ، کتاب الإیمان، باب من کان فی حاجۃ أہلہ فأقیمت الصلاۃ فخرج:۶۷۶.