کتاب: دل کا بگاڑ - صفحہ 587
ابو یزید بسطامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ جب تک انسان یہ گمان کرتا رہے گا کہ اللہ کی مخلوق میں ایسے بھی ہیں جو اس سے کم تر ہیں ، تو وہ متکبر ہی رہے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے خیر و بھلائی میں سبقت لے جانے والوں کا یہ وصف بیان کیا ہے کہ وہ جب اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی اطاعت کے کام کرتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ سے ڈر رہے ہوتے ہیں اور اس کا خوف محسوس کرتے ہیں کہ کہیں اللہ تعالیٰ ان کے یہ اعمال رد نہ کردے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ (60) أُولَئِكَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ ﴾ (المومنون:۶۰تا۶۱) ’’اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل کپکپاتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔یہی ہیں جو جلدی جلدی بھلائیاں حاصل کر رہے ہیں اور یہی ہیں جو ان کی طرف دوڑ جانے والے ہیں۔‘‘ ام المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے متعلق پوچھا﴿ وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ ﴾ اور سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ کیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں اور چوری کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَا بِنْتَ الصِّدِّیقِ وَلَکِنَّہُمُ الَّذِینَ یَصُومُونَ وَیُصَلُّونَ وَیَتَصَدَّقُونَ وَہُمْ یَخَافُونَ أَنْ لَا یُقْبَلَ مِنْہُمْ أُولَئِکَ الَّذِینَ یُسَارِعُونَ فِی الْخَیْرَاتِ۔)) [1]
[1] ترمذي، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ المؤمنین: ۳۱۷۵۔ وصححہ الألباني في السلسلۃ الصحیحۃ ۱/۳۰۴.