کتاب: دل کا بگاڑ - صفحہ 586
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر تا ہے ، اس کا جرم بڑا اور سخت ہوتا ہے۔ اور اسے یہ بھی جان لینا چاہیے کہ وہ تکبر اللہ تعالیٰ کے بغیر کسی دوسرے کے لیے ہر گز مناسب اور شایان شان نہیں، اور جب انسان تکبر کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے غضب اور ناراضگی کامستحق ٹھہرتا ہے۔ اس چیز کے علم سے تکبر کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور تواضع پیدا ہوسکتی ہے۔ اور یہ بھی جان لینا چاہیے کہ علم و عمل کی وجہ سے تکبر کرنا بندوں کے لیے ایک بہت بڑا فتنہ ہے۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’ بنی اسرائیل میں دو آدمی ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارہ رکھنے والے تھے۔ ان دونوں میں سے ایک تو گناہ گار تھا اور دوسرا عبادت میں کوشش کرنے والا تھا۔ عبادت کی جدوجہد میں لگے رہنے والا ہمیشہ دوسرے کو گناہ کرتا ہی دیکھتا تھا اور اسے کہتا تھا کہ ان گناہوں سے رک جاؤ۔ ایک روز اس نے اسے کوئی گناہ کرتے ہوئے پایا تو اس سے کہا کہ اس گناہ سے رک جاؤ۔ تو گناہ گار نے کہا کہ مجھے میرے رب کے ساتھ چھوڑ دے۔ کیا تو مجھ پر نگران بنا کر بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا کہ اللہ کی قسم !اللہ تعالیٰ تیری مغفرت نہیں کریں گے یا کہا کہ اللہ تجھے جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ پھر ان دونوں کی روحیں قبض کرلی گئیں تو دونوں کی روحیں رب العالمین کے سامنے جمع ہوئیں تو اللہ نے عابد سے فرمایا: ’’کیا تو اس چیز پرقادر ہے جو میرے قبضہ قدرت میں ہے؟، اور گناہ گار سے فرمایا: جاؤ میری رحمت کی بدو لت جنت میں داخل ہو جاؤ اور دوسرے ( عابد ) سے فرمایا کہ: اسے جہنم کی طرف لے جاؤ۔‘‘سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اس عابد نے ایسا کلمہ کہہ دیا جس نے اس کی دنیا و آخرت دونوں تباہ کردیں۔‘‘[1]
[1] ابو داؤد:۴۹۰۱۔ و صححہ الألباني رحمہ اللّٰہ.