کتاب: دل کا بگاڑ - صفحہ 585
ذلیل انسان تکبر کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ تکبر کی ہر حال میں ہی نفی کی گئی ہے۔
(أَنْتُمْ بَنُوْ آدَمَ ، وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ): مراد یہ ہے کہ جس کی اصل مٹی سے ہو ، اس کے لیے تکبر وفخر اورنخوت جائز و مناسب نہیں۔
(لیَدَعَنَّ): یہاں پر تاکید کے ساتھ فرمایا جارہا ہے کہ ضرور بالضرور اپنے آباء و اجداد پر تکبرو فخر کو ترک کردینا چاہیے۔
(لَیَکُوْنَنَّ): یہاں بھی تاکید کے ساتھ اس کا انجام بیان کیا جارہا ہے۔ یعنی اگر وہ لوگ تکبر وہ نخوت اور فخر کو ترک نہیں کریں گے تواپنے اس انجام کو پالیں گے [جو حدیث میں بیان کیا گیا ہے ]۔
(أَہْوَنَ عَلَی اللّٰہِ ): یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت ذلیل [ہوجائیں گے ]۔
(مِنَ الْجِعْلَانِ) جعلان ایک چھوٹا سا کالے رنگ کا کیڑا ہوتا ہے جو اپنے ناک کے بل گوبر میں چلتا رہتا ہے۔
( الَّتِی تَدْفَعُ بِأَنْفِہَا النَّتِنَ): یعنی اپنے ناک سے گندگی کو ہٹاتا ہے۔
[(النتِن): گندگی کو کہتے ہیں۔ [1]
سیّدنا ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ جس انسان نے اپنے آپ کو نو(۹) کافر آباء و اجداد کی طرف منسوب کیا اور اس نسب سے وہ عزت و فخر حاصل کرنا چاہتا ہو ، تووہ ان کے ساتھ جہنم میں دسواں ہوگا۔ ‘‘[2]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ اس حدیث کی سند حسن درجہ کی ہے۔ ‘‘[3]
اور جو انسان علم کی وجہ سے تکبر کرنے والا ہو ؛ تو اسے جان لینا چاہیے کہ اہل علم پر اللہ تعالیٰ کی حجت باقی لوگوں سے بڑھ کر اور سخت متاکد ہے، اور جو انسان علم ہونے کے باوجود
[1] عون المعبود:۱۴/۱۶.
[2] رواہ أحمد ۱۶۷۶.
[3] فتح الباری: ۶/۵۵۱.