کتاب: دل کا بگاڑ - صفحہ 584
بِالْآبَائِ مُؤْمِنٌ تَقِیٌّ وَفَاجِرٌ شَقِیٌّ أَنْتُمْ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ لَیَدَعَنَّ رِجَالٌ فَخْرَہُمْ بِأَقْوَامٍ إِنَّمَا ہُمْ فَحْمٌ مِنْ فَحْمِ جَہَنَّمَ أَوْ لَیَکُونُنَّ أَہْوَنَ عَلَی اللّٰہِ مِنَ الْجِعْلَانِ الَّتِی تَدْفَعُ بِأَنْفِہَا النَّتِنَ۔)) [1]
’’ بے شک اللہ نے تم سے جاہلیت کے نخوت اور اس زمانہ کی آباء و اجداد پر فخر کرنے کی عادت کو دُور کر دیا۔ انسان دو طرح ہیں۔ یا تو متقی مومن بندے۔ یا فاسق وفاجر بدبخت بندے۔ تم سب آدم کے بیٹے ہو اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں لوگ اپنی قوموں پر فخر کرنا ضرور چھوڑ دیں گے کیونکہ وہ جہنم کے کوئلوں میں سے ایک کوئلہ ہی ہے ورنہ اللہ کے نزدیک گوبر کے اس کیڑے سے زیادہ ذلیل ہوجائیں گے جو اپنی ناک سے بدبو اور گندگی کو دھکیلتا ہے۔‘‘
مشکل الفاظ کی تشریح:
(عُبَیَّۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ): یعنی جاہلیت کا تکبر ، فخر اور نخوت۔
(مُؤمِنٌ تَقِیٌّ وَ فَاجِرٌ شَقِیٌّ): امام خطابی رحمہ اللہ اس کے معنی میں فرماتے ہیں: ’’ لوگ دو قسم کے ہیں: ایک مومن متقی فاضل ہے جو خیر پر قائم ہے۔اگرچہ وہ اپنی قوم میں حسب و نسب والا نہ بھی ہو، اور دوسرا فاجر و شقی [گنہگار اور بد بخت انسان] ؛ یہی وہ گرا ہوا انسان ہے [ جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے ، مگر اللہ تعالیٰ سے دور ہونے کی وجہ سے انتہائی ذلت کا شکار ہے] اگرچہ قوم میں اس کا بڑا مقام و مرتبہ اور حسب و نسب ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
اور اس کے معنی میں یہ بھی ایک قول ہے کہ اس سے مراد متکبر اور فخر کرنے والا انسان ہے۔ جب مومن اور متقی کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے انسان پر تکبر کرے۔ جب کہ بد بخت اور گناہ گار انسان اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑا ذلیل وحقیر ہوتا ہے، اور
[1] أبو داؤد ، کتاب الأرب، باب فی الاتفاخر بالأحساب:۵۱۱۶، و حسنہ الألباني في صحیح الجامع:۱۷۸۷.