کتاب: دل کا بگاڑ - صفحہ 583
لیے مناسب نہیں ہے۔ پس جس انسان کو تکبر اس کے نسب وخاندان کی وجہ سے لاحق ہو ، اس کے دل کی اصلاح اس طرح ہوسکتی ہے کہ اسے اس بات کی معرفت کرائی جائے کہ اس کا یہ خیال [کہ اپنے اہل خاندان یا بزرگوں کے کارناموں کی وجہ سے فخر و تکبر ] جہالت پر مبنی ہے۔ اس لیے کہ اس کا اپنا کمال تو کوئی ہے نہیں اور وہ دوسروں کے کارناموں پر فخر کررہا ہے۔ کسی عاقل کے لیے یہ بات کیسے مناسب ہوسکتی ہے کہ وہ کسی دوسرے کے کمال پر فخر کرے؟
سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو آدمی کھڑ ے ہوئے اور اپنا اپنا نسب بیان کرکے فخر کرنے لگے۔ ان میں سے ایک نے کہا: ’’ میں فلاں ابن فلاں کا بیٹا ہوں ؛ تو کون ہے؟ تیری کوئی ماں ہی نہیں ہے ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ سیّدنا موسی علیہ السلام کے دور میں دو آدمی کھڑ ے ہوئے اور اپنا اپنا نسب بیان کرکے فخر کرنے لگے۔ ان میں سے ایک نے کہا: ’’ میں فلاں ابن فلاں کا بیٹا ہوں ؛ یہاں تک کہ اپنی نو پشتیں گن ڈالیں، اورتو کون ہے؟ تیری کوئی ماں ہی نہیں ہے۔‘‘[دوسرے نے کہا:] میں فلاں ابن فلاں ابن اسلام کا بیٹا ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کی طرف وحی نازل فرمائی: بے شک یہ دونوں جو اپنے خاندان پر فخر کرنے والے ہیں ؛ یا اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرنے والے ہیں۔ [ان سے کہہ دو:] اے اپنے آپ کو نو پشتوں کی طرف منسوب کرنے والے ! وہ نو کے نو سارے جہنم میں ہیں ، اور تو دسواں بھی ان کے ساتھ جہنم میں ہی جائے گا‘‘اور جس نے اپنے آپ کو دو پشتوں کی طرف منسوب کیا ہے ؛ وہ دونوں جنت میں ہیں اور ان کے ساتھ تیسرا توبھی جنت میں ہے۔ ‘‘[1]
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذْہَبَ عَنْکُمْ عُبِّیَّۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ وَفَخْرَہَا
[1] أحمد: ۲۰۶۷۴، و صححہ الألباني في الصحیحۃ:۱۲۷۰.