کتاب: دل کا بگاڑ - صفحہ 581
أَحْصَاهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا ﴾ (الکہف:۴۹) ’’اور نامہ اعمال سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔ پس دیکھو گے کہ گنہگار اس کی تحریر سے خوفزدہ ہو رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے ہائے ہماری خرابی یہ کیسی کتاب ہے جس نے کوئی چھوٹا بڑا گناہ شمار کیے بغیر چھوڑا ہی نہیں، اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم و ستم نہ کرے گا۔‘‘ احنف [بن قیس ] رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ میں اس انسان پر تعجب کرتا ہوں کہ جو دو بارپیشاب کی نالی میں چلا ہے وہ کیسے تکبر کرتا ہے۔ ‘‘[1] مطرف بن شخیر رحمہ اللہ نے یزید بن مہلب کو دیکھا کہ وہ اپنا تہ بند زمین پر گھسیٹتے ہوئے چل رہا تھا۔ انہوں نے کہا: یہ ایسی چال ہے جس کو اللہ تعالیٰ نا پسند کرتا ہے۔ اس نے جواب میں کہا: کیا تو مجھے جانتا نہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ’’ ہاں میں جانتا ہوں تو کون ہے؟ پہلے تو منی کا ایک حقیر قطرہ تھا، اور آخر میں ایک بدبودار مردار ہوجائے گا، اور اس عرصے کے درمیان گند اٹھائے پھرتا ہے۔ ‘‘[2] ابو محمد عبد اللہ بن محمد البسامی الخوارزمی رحمہ اللہ نے ان الفاظ کو شعر کے قالب میں ڈھالا ہے ، آپ فرماتے ہیں: عَجِبْتُ مِنْ مُعْجِبٍ بِصُوْرَتِہٖ وَکَانَ مِنْ قَبْلُ نُطْفَۃَ مَذَرَۃً وَفِیْ غَدٍ بَعْدَ حُسْنِ صُوْرَتِہٖ یَصِیْرُ فِی الْاَرْضِ جِیْفَۃً قَدِرَۃً
[1] وفیات الأعیان لابن خلکان: ۲/۵۰۵۔ وسیر الأعلام النبلاء: ۴/۹۳. [2] سیر الأعلام النبلاء: ۴/۵۰۵.