کتاب: دل کا بگاڑ - صفحہ 580
مرنا نہیں چاہتا مگر موت اسے آکر رہتی ہے۔ وہ چاہتا کہ وہ کسی چیزکا کچھ علم حاصل کرے ، مگر وہ جہالت کا شکار رہتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ کوئی چیز اسے یاد رہے ،مگر وہ اسے بھول جاتا ہے، اور کسی چیز کوبھولنا چاہتا ہے ،مگروہ اسے نہیں بھولتی بلکہ ہر وقت یاد رہتی ہے۔ انسان ایک ایسا غلام ہے جس کا اپنا نفس بھی اپنی ملکیت نہیں، اورنہ ہی وہ اپنے نفس کے لیے کسی نفع نقصان یا خیر و شر کا مالک ہے۔ اگر انسان اپنے نفس پر صحیح معنوں میں غور وفکر کرے تو کون سی چیز اس سے بڑھ کر ذلیل ہو سکتی ہے؟ جب کہ اس انسان کا آخری انجام موت ہے۔ جب موت آتی ہے تو انسان کی روح کو چھین لیتی ہے اس کی سماعت و بصارت ،علم و قدرت، حس و ادراک اور حرکات و سکنات کو ختم کردیتی ہے۔ انسان ایک جامد چیز ہو کرر ہ جاتا ہے؛ جیسا کہ پہلے وہ کسی وقت میں تھا۔ پھر اسے مٹی میں دبا دیا جاتا ہے اور اس کی حالت ایک بدبودار مردار کی طرح ہوجاتی ہے۔ اے کاش ! کہ اسے یونہی باقی رہنے دیا جاتا۔ایسا نہیں ہوگا۔ بلکہ ایک لمبے زمانہ تک قبر میں پڑے رہنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا تاکہ وہ اس سے بھی سخت بلا و مصیبت سے دوچار ہو؛ پھر اسے اس کی قبر سے قیامت کی ہولناکیوں کی طرف لایا جائے گا، اور اس کے سامنے اس کا نامہ اعمال بکھیر کر اس سے کہا جائے گا: ﴿ اِقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا ﴾ (الإسراء:۱۴) ’’لے!خود ہی اپنی کتاب آپ پڑھ لے۔ آج تو تو آپ ہی اپنا خود حساب لینے کو کافی ہے۔‘‘ جب وہ اپنے نامہ اعمال کا مشاہدہ کرلے گا تو وہ کہے گا: ﴿ وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا