کتاب: دل کا بگاڑ - صفحہ 576
(جَوَّاظٍ): وہ موٹا انسان جو کہ متکبرانہ چال چلے۔ اکھڑ مزاج۔ بد اخلاق۔ [1] سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((احْتَجَّتِ النَّارُ وَالْجَنَّۃُ فَقَالَتْ ہَذِہٖ یَدْخُلُنِی الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَکَبِّرُونَ وَقَالَتْ ہَذِہٖ یَدْخُلُنِی الضُّعَفَآئُ وَالْمَسَاکِینُ فَقَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِہَذِہٖ اَنْتِ عَذَابِی اُعَذِّبُ بِکِ مَنْ اَشَآئُ وَرُبَّمَا قَالَ اُصِیبُ بِکِ مَنْ اَشَآئُ وَقَالَ لِہَذِہٖ اَنْتِ رَحْمَتِی اَرْحَمُ بِکِ مَنْ اَشَآئُ وَلِکُلِّ وَاحِدَۃٍ مِّنْکُمَا مِلْؤُہَا۔)) [2] ’’دوزخ اور جنت کا آپس میں جھگڑا ہوا۔ دوزخ نے کہاکہ میرے اندر بڑے بڑے ظالم اور متکبر لوگ داخل ہوں گے، اور جنت نے کہا:میرے اندر کمزور اور مسکین لوگ داخل ہوں گے تو اللہ عزوجل نے دوزخ سے فرمایا: تو میرا عذاب ہے میں تیرے ذریعے جسے چاہوں گا عذاب دوں گا، اور اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا:تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعے جس پر چاہوں گا رحمت کروں گا لیکن تم میں ہر ایک کا بھرنا ضروری ہے۔‘‘ مشکل الفاظ کی تشریح: حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’تکبرکرنے والے اور جبر کرنے والے دونوں ایک ہی معنی میں ہیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ متکبر اس کو کہتے ہیں جو ایسی چیز سے اپنی عظمت کا اظہار کرے جو اس کے اندر نہیں ہے۔ اور متجبر اس کو کہتے ہیں جس تک پہنچنا ناممکن ہو اور وہ جو سختی سے اپنا حکم منواتا ہو۔ ضعفاء اور مساکین: ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو عام لوگوں کی نظروں میں گرے ہوئے
[1] شرح النووی علی صحیح مسلم: ۱۷/۱۸۷. [2] صحیح بخاری:۴۸۵۰ وصحیح مسلم ، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہما ، باب النار یدخلا الجبارون والجنۃ یدخلہا الضعفاء: ۲۸۴۶.