کتاب: دل کا بگاڑ - صفحہ 575
النَّاسِ۔))[1] ’’ جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘اس پر ایک آدمی نے عرض کیا کہ ایک آدمی چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کی جو تی بھی اچھی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی ہی کو پسند کرتا ہے تکبر تو حق کی طرف سے منہ موڑنے اور دوسرے لوگوں کو کمتر سمجھنے کو کہتے ہیں۔‘‘ ۶۔ متکبرین اور جہنم کی وعید: حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِأَہْلِ الْجَنَّۃِ کُلُّ ضَعِیفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَأَبَرَّہُ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِأَہْلِ النَّارِ کُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَکْبِرٍ۔))[2] ’’کیا میں تمہیں اہل جنت کی خبر نہ دوں؟ ، ہر کمزور آدمی جسے کمزور سمجھا جاتا ہے اگر وہ اللہ پر قسم کھالے تو اللہ اس کی قسم پوری فرما دے۔ [پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا] کیا میں تمہیں دوزخ والوں کی خبر نہ دوں؟ ہر جاہل اکھڑ مزاج تکبر کرنے والا [دوزخی ہے ]۔‘ ‘ مشکل الفاظ کے معانی: (عتلٍ): تند مزاج ، بد خو ، باطل پر ناحق سخت جھگڑا کرنے والاجاہل۔ خشک مزاج ، سخت غلیظ کلام کرنے والا۔
[1] صحیح مسلم ، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر و بیانہ: ۹۱۔ دوسری حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ)) (مسلم: ۱۴۹) ’’ جس کے دل میں ذرہ بھر بھی تکبر ہے وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ ‘‘. [2] صحیح بخاری ، کتاب التفسیر، باب ﴿و عتل بعد ذٰلک زنیم ﴾: ۴۹۱۸۔ و صحیح مسلم: ۲۸۵۳.