کتاب: دل کا بگاڑ - صفحہ 530
۵۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ ﴾ (العنکبوت:۴۶)
’’اور اہل کتاب کے ساتھ بحث و مباحثہ نہ کرو مگر اس طریقہ پر جو عمدہ ہو مگر ان کے ساتھ جو ان میں ظالم ہیں۔‘‘
﴿ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ﴾’’مگر اس طریقہ پر جو عمدہ ہو‘‘ کا کیا معنی ہے۔
وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔