کتاب: دل کا بگاڑ - صفحہ 519
’’ خبر دار ! اپنے آپ کو جھگڑوں اور دین میں مناظروں سے بچا کر رکھنا۔ کبھی بھی نہ ہی کسی عالم سے مناظرہ کرنا اورنہ ہی کسی جاہل سے۔ اس لیے کہ عالم کے پاس تو تیرے علم کا بھی خزانہ تو کچھ کرے گا اسے کوئی پرواہ نہیں ہوگی، اور جاہل سے مناظرہ اس لیے نہ کرنا کہ وہ تیرے دل کو تنگ کردے گا مگر تیری بات کبھی نہیں مانے گا۔ ‘‘[1] روایات میں منقول ہے کہ ایک انسان علمائے کرام رحمہم اللہ کے ساتھ مناظرہ اور مباحثے کرنے کی وجہ سے علم سے محروم ہوگیا۔جس پر اسے بعد میں بہت ندامت ہوئی۔ وہ افسوس کرتا تھا اور کہتا تھا: اے کاش ! میں اگر ایسا نہ کرتا۔‘‘ امتوں کی ہلاکت: سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( دَعُوْنِیْ مَا تَرَکْتُکُمْ إِنَّمَا أَہْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ سُؤالُہُمْ وَاخْتِلَافُہُمْ عَلٰی أَنْبِیَائِہِمْ۔)) [2] ’’تم مجھے چھوڑ دو جب تک کہ میں تم کو چھوڑ دوں(یعنی بلا ضرورت مجھ سے سوال نہ کرو)۔ تم سے پہلے کی قومیں کثرت سوال اور انبیا ء سے اختلاف کے سبب ہلاک ہو گئیں۔‘‘ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے زیاد بن حدیر رحمہ اللہ سے فرمایا: ’’ کیا تم جانتے ہو کون سی چیز اسلام کو گرا دیتی ہے؟ کہا: میں نہیں جانتا۔
[1] رواہ الدارمي: ۳۰۲. [2] صحیح بخاری، کتاب الاعتصامبالکتاب والسنۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اللّٰہ صلي الله عليه وسلم : ۷۲۸۸۔ صحیح مسلم: ۱۳۳۷۔ واللفظ للبخاري۔ یہ آدھی حدیث ہے۔اس حدیث میں آگے یہ الفاظ ہیں جب میں تم کو کسی چیز سے منع کروں تو اس سے پرہیز کرو اور تم کو کسی بات کا حکم دوں تو اس کو کرو جس قدر تم سے ممکن ہو سکے.