کتاب: دل کا بگاڑ - صفحہ 496
محض جھگڑے کی غرض سے ہے، بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔‘‘[1]
اور اس کے بعد پھر یہ آیت نازل ہوئی:
﴿ إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ ﴾ (الأنبیاء:۱۰۱)
’’البتہ بے شک جن کے لیے ہماری طرف سے نیکی پہلے ہی ٹھہر چکی ہے۔ وہ سب جہنم سے دور ہی رکھے جائیں گے۔‘‘
سیّدنا عزیر علیہ السلام اور سیّدنا عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام اس آگ سے بہت ہی دور ہیں۔ [2] جب کہ ان کے باقی جھوٹے معبود سب اس آگ میں ان کے ساتھ جل رہے ہوں گے۔ یہاں تک کہ چاند و سورج اور ان کے بت اس آگ میں ہوں گے ، تا کہ ان کی عبادت کرنے والوں کو اور زیادہ عذاب ہو، اور ان سے کہا جائے گا: یہ ہے وہ جس کی تم پوجا کیا کرتے تھے،
[1] اخرجہ ابن مردویہ ، کما في تفسیر ابن کثیر(۳/۲۶۵)۔ شرک کی تردید اور جھوٹے معبودوں کی بے وقعتی کی وضاحت کے لیے جب مشرکین سے کہا جاتاہے کہ تمہارے ساتھ تمہارے معبود بھی جہنم جائیں گے تو اس سے مراد وہ پتھر کی مورتیاں ہوتی ہیں جن کی وہ عبادت کرتے ہیں، نہ کہ وہ نیک لوگ جو اپنی زندگیوں میں لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے ہیں، مگر ان کی وفات کے بعد ان کے معتقدین نے انھیں بھی معبود سمجھنا شروع کر دیا ان کی بابت قرآن کریم نے ہی واضح کر دیا ہے کہ یہ جہنم سے دور رہیں گے۔ یہی حال زمانہ حاضر کے ان جھوٹے پیروں فقیروں کا ہے جنہوں نے لوگوں کو قبر پرستی پر لگا دیا ہے ، یا جو قبروں پر مجاور بن کر بیٹھ گئے ہیں۔ رہ گئے وہ اولیاء اللہ جن کی قبروں پر یہ لوگ عالیشان عمارتیں کھڑی کرکے بیٹھے ہوئے ہیں وہ ان کے افعال سے بالکل ایسے بری ہیں جیسے بھیڑیا سیّدنا یوسف کے خون سے بری تھا.
[2] سیّدنا مسیح علیہ السلام کا جب ذکر آیا تو عرب کے مشرکین نے خوب شور مچایا۔ بعض روایات میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا: ’’لَیْسَ اَحَدٌ یُعْبَدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فِیْہِ خَیْرٌ۔‘‘’’ جسے بھی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پوجا جائے ، اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔‘‘(اس پر )کہنے لگے کیا مسیح میں کوئی خیر اور بھلائی نہیں؟ ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ کا مطلب ان چیزوں سے متعلق تھا جن کی پرستش لوگ کرتے ہیں، اور وہ ان کو اس سے نہیں روکتے، اور اپنی بیزاری کا اظہار نہیں کرتے۔ مگر ان معترضین کا منشا تو محض جھگڑے نکالنا اور کٹ حجتی کر کے حق کو روکنا تھا۔ اس لیے جان بوجھ کر ایسے معنی پیدا کرتے تھے جو مراد متکلم کے مخالف ہوں.