کتاب: دل کا بگاڑ - صفحہ 418
’’دنیا میٹھی اور سر سبز ہے اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ ونائب بنانے والا ہے پس وہ دیکھے گا کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو دنیا سے بچو اور عورتوں سے بھی ڈرتے رہو کیونکہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں میں تھا۔‘‘اور ابن بشار کی حدیث میں ہے: ’’ تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔‘‘
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((اَلدُّنْیَا مَتَاعٌ وَخَیْرُ مَتَاعِ الدُّنْیَا الْمَرَأَۃُ الصَّالِحَۃُ۔)) [1]
’’دنیا متاع یعنی سامان ہے اور دنیا کا بہترین مال ومتاع نیک بیوی ہے۔‘‘
سیّدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((لَوْکَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰہِ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ مَا سَقٰی کَافِرًا مِنْہَا شَرْبَۃَ مَائٍ۔)) [2]
’’ اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی مچھر کے پر کے برابر بھی قدر ہوتی تو کسی کافر کو اس سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا۔‘‘
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( الدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤمِنِ وَجَنَّۃُ الْکَافِرِ)) [3]
’’ دنیا مومن کے لیے ایک قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے۔‘‘
سیّدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا:
((وَاللّٰہِ مَا الدُّنْیَا فِي الْآخِرَۃِ إِلَّا مِثْلُ مَا یَجْعَلُ أَحَدُکُمْ إِصْبَعَہٗ ہٰذِہِ وَأَشَارَ یَحْیٰی بِالسَّبَابَۃِ فِي الْیَمِّ فَلْیَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ۔)) [4]
[1] صحیح مسلم ، کتاب الرضاع، باب خیر متاع الدنیا المرأۃ الصالۃ: ۱۴۶۷.
[2] ترمذي ، کتاب الزہد، باب ما جاء فی ہوان الدنیا: ۲۳۲۰ وقال: حدیث حسن غریب.
[3] صحیح مسلم ، کتاب الزہد ، باب الدنیا سجن للمؤمن و جنۃ للکافر: ۲۹۵۶.
[4] صحیح مسلم ، کتاب الجنۃ و نعیمہما ، باب فناء الدنیا و بیان الحشر یوم القیامۃ:۲۸۵۸.