کتاب: دل کا بگاڑ - صفحہ 409
مقدمہ ازمصنف اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ، وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی اَشْرَفِ الْاَنْبِیَائِ وَالْمُرْسَلِیْنَ ، نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ ، اَمَّا بَعْدُ! اس میں کوئی شک و شبہ والی بات نہیں ہے کہ دل تمام اعضاء کا بادشاہ ہے، اور باقی اعضاء اس کا لشکر ہیں۔ جب بادشاہ کی اصلاح ہوتی ہے تو لشکرکی بھی اصلاح ہوجاتی ہے۔ سیّدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((وَإِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلَّہُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلَّہُ اَلَا وَہِیَ الْقَلْبُ۔)) [1] ’’خبردار ہو جاؤ! بدن میں ایک ٹکڑا گوشت کا ہے، جب وہ درست ہوتا ہے تو تمام بدن درست ہوتا ہے اور جب وہ خراب ہو جاتا ہے تو تمام بدن خراب ہو جاتا ہے، سنو وہ ٹکڑا دل ہے۔‘‘ دل ایک اونچا قلعہ ہے جس کے کئی دروازے اوراندر داخل ہونے کے راستے ہیں۔اور شیطان اس دھوکا باز دشمن کی طرح ہے جو کہ ہر وقت تاک میں لگارہتا ہے، اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کیسے اس قلعہ میں داخل ہو تاکہ اس پر غلبہ حاصل کرلے۔
[1] صحیح بخاری ، کتاب الایمان، باب فضل من استبرأ لد ینہ:۵۲۔ صحیح مسلم: ۱۵۹۹۔ یہ پوری حدیث اس طرح ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حلال ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے اور دونوں کے درمیان میں شبہ کی چیزیں ہیں کہ جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے، پس جو شخص شبہ کی چیزوں سے بچے اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچالیا اور جو شخص شبہوں (کی چیزوں)میں مبتلا ہوجائے(اس کی مثال ایسی ہے)جیسے کہ جانور شاہی چراگاہ کے قریب چر رہا ہو جس کے متعلق اندیشہ ہوتا ہے کہ ایک دن اس کے اندر بھی داخل ہو جائے۔ لوگو!آگاہ ہو جا ؤکہ ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہے، آگاہ ہو جا کہ اللہ کی چراگاہ اس کی زمین میں اس کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں۔اس کے آگے باقی حدیث متن میں درج ہے۔ عام فائدہ کے لیے مکمل حدیث درج کردی۔ (مترجم).