کتاب: دل کا بگاڑ - صفحہ 331
وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ (26) يَا لَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ (27) مَا أَغْنَى عَنِّي مَالِيَهْ (28) هَلَكَ عَنِّي سُلْطَانِيَهْ ﴾ (الحآ قۃ: ۲۵ تا ۲۹) ’’لیکن جسے اس (کے اعمال)کی کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں دی جائے گی، تو وہ کہے گا کاش کہ مجھے میری کتاب دی ہی نہ جاتی۔اور میں جانتا ہی نہ تھا کہ حساب کیا ہے۔کاش!کہ موت(میرا)کام ہی تمام کر دیتی۔ میرے مال نے بھی مجھے کچھ نفع نہ دیا۔میرا غلبہ بھی مجھ سے جاتا رہا۔‘‘[1] اسحق بن خلف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ بول چال میں ورع اختیار کرنا سونے اور چاندی سے بڑھ کر ہے، اور جاہ و مال کی محبت سے زہد اختیار کرنا سونے اور چاندی سے بڑھ کر ہے۔ اس لیے کہ یہ دونوں چیزیں (سونا اور چاندی) حکومت حاصل کرنے کے لیے خرچ کیے جاتے ہیں۔ ‘‘[2] ۷۔ خود پسندی: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ثَـلَاثُ مُہْلِکَاتٌ وَثَـلَاثُ مُنَجِّیَاتٌ وَ ثَـلَاثٌ کَفَّارَاتٌ، وَثَـلَاثٌ دَرَجَاتٌ وَأَمَّا الْمُہْلِکَاتُ: فَشُحَّ مُطَاعٌ ، وَہَوًی مُتَّبَعٌ ، وَإِعْجَابُ الْمَرْئِ بِنَفْسِہٖ… وَأَمَّا الْمُنَجِّیَاتُ: وَخَشْیَۃُ اللّٰہ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِیَۃِ۔)) [3]
[1] شرح حدیث ما ذئبان جائعان: ۷۱. [2] مدارج السالکین ۲/۲۲. [3] رواہ الطبرانی (۵۷۵۴) حسنہ الألباني رحمہ اللّٰہ۔کفارات یہ ہیں:سخت سردیوں میں اچھی طرح وضو کرنا، نماز کے بعد دوسری نمازوں کاانتظار کرنا ، اور جمعہ کے لیے چل کر جانا، اور درجات ان تین چیزوں سے بلند ہوتے ہیں: ’’ کھانا کھلانا ، سلام عام کرنا [یعنی ہر مسلمان کو السلام علیکم کہنا ، اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں [تہجد کی] نماز پڑھنا۔ ‘‘ فائدہ کے لیے حدیث مکمل کردی۔ مترجم.