کتاب: دینی تعلیم و تربیت کے اصول و آداب - صفحہ 93
ہندوستان و پاکستان و دیارِ عرب تک ان کا علمی مقام اور درسِ حدیث کا شہرہ زندہ اور پایندہ ہے ع سالہا زمزمہ پرداز جہاں خواہد بود زیں نواہا کہ دریں گنبدِ گردوں زدہ ست ’’اس برج فلک سے گائے ہوئے گیت سالہا سال تک جہاں میں نغمہ سرا رہیں گے۔‘‘ مولانا ثناء اﷲ صاحب رحمہ اللہ امرتسری کی غربت اور تنگدستی کا واقعہ مولانا بہت غریب تھے۔چودہ برس کی عمر میں کسی عالمِ دین کی نصیحت کے سبب پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔آپ نے مکمل علم حاصل کر کے فاتحِ قادیان،شیرِ پنجاب اور مناظرِ اسلام کا لقب حاصل کیا۔انہی ایام کا واقعہ ہے کہ جب آپ دہلی پڑھنے کے لیے تشریف لے گئے تو ٹرین پر آپ کی جوتی کسی نے غائب کر دی۔صرف ایک جوتی پہن کر پلیٹ فارم سے نکل کر باہر آئے۔باہر سڑک پر آکر ایک جوتی پھینک دینے کا ارادہ کیا،وہاں ایک بقال تھا۔مولانا کے ارادے کو سمجھ گیا اور کہا:میاں کیوں پھینکتے ہو؟ دوسری جوتی 4؍ 6آنے میں خرید لینا۔مولانا کہتے ہیں کہ چھے ماہ گزر گئے،لیکن چھے پیسے مجھ سے جمع نہیں ہو سکے۔ مولانا کی غربت کا یہ حال تھا،مگر جب اپنی کدوکاوش سے پڑھ لکھ کر عالم،فاضل اور مناظرِ اسلام بن گئے تو خدا نے آپ کو دین و دنیا کی نعمت عطا کر دی۔اپنے علمی تبحر اور کمال کی بنا پر آگے چل کر آپ کا نام دنیا میں بڑا روشن ہوا۔اپنی ذہانت و فطانت،علمی جلالت اور حاضر جوابی میں بے مثل بے مثال