کتاب: دینی تعلیم و تربیت کے اصول و آداب - صفحہ 92
علم مغرب میں پڑھا زائر لندن بھی ہوئے مثلِ انجم افقِ قوم پہ روشن بھی ہوئے بے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئے صفت ظاہر گم کردہ نشیمن بھی ہوئے الغرض یہی بے چارے غریب طالبِ علم دینی علوم و فنون سے محبت اور ان کے حاصل کرنے کا سچا ذوق اور جذبہ رکھتے ہیں۔ علامہ سید نذیر حسین محدث دہلوی کی غربت وافلاس کا واقعہ غریب طالب علم پڑھ لکھ کر کوئی شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث بنا،جو بہار کے غریب خاندان کے ایک طالب علم تھے۔ محترم خالد حسین صدیقی نے میاں سید نذیر حسین دہلوی کی حیات کے بارے میں لکھا ہے کہ قلتِ زادِ راہ اور بے سرو سامانی کے سبب کافی دنوں تک سفر جاری رکھنے میں بہت زیادہ وقفہ ہو جاتا تھا۔یہ ان کے غربت و افلاس کا نقشہ تھا۔[1] لیکن یہ غریب و نادار طالب علم اسلامی علوم و فنون اور درسِ حدیث میں محنت و مشقت اٹھانے کے سبب یگانۂ روز گار اور علومِ حدیث کا شارح اور ترجمان بن گیا۔دہلی اور اس کے اطراف میں آپ کی علمی عظمت و جلالت کا بڑا شہرہ ہوا اور یمن و نجد و حجاز کے طلبہ کا حلقہ آپ کے ارد گرد جمع ہونے لگا۔آپ نے شہرہ آفاق کتاب ’’معیارِ حق‘‘ لکھ کر سب کے دلوں پر اپنے علم و تحقیق کا سکہ جما دیا۔علمائے زمانہ نے شیخ الکل فی الکل کا مایہ ناز خطاب دیا اور آج تک [1] جریدہ ’’ترجمان‘‘(1411ھ مطابق 22 مئی 1990ء )۔