کتاب: دینی تعلیم و تربیت کے اصول و آداب - صفحہ 89
اس سے معلوم ہوا کہ فقر و فاقہ اور غربت و ناداری کے باوجود اگر غریب آدمی بھی علم میں محنت کرے تو عالم فاضل فقیہ اور محدث بن سکتا ہے۔ آج کل کے کم محنت کرنے والے طلبا سے خطاب یہ سبق آموز باتیں اس متمدن،چمکیلی اور بھڑکیلی دنیا میں ہمارے ان طلبا کو،جو فقر و فاقہ سے کبھی نہیں گزرے ہیں اور اکثر گوشت روٹی اور عمدہ کھانا مدارس میں کھایا کرتے ہیں،تعجب خیز لگتی ہیں،جیسے مرکزی دار العلوم جامعہ سلفیہ بنارس کے طلبا یا نظم و ضبط کے لحاظ سے اس کے ہم مرتبہ مدرسہ مہد التعلیم الاسلامی نئی دہلی کے طلبا یا اس طرح کے دیگر مدارس جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں یا جامعہ دار السلام عمر آباد وغیرہ میں طلبا گوشت روٹی کھاتے رہتے ہیں،لیکن انھیں وہ علم نہیں حاصل ہو رہا جس کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی غربت میں حاصل کیا تھا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی کی روایت ہے کہ ان کی کثرتِ حدیث پر ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اعتراض کیا تو انھوں نے حضرت عائشہr سے کہا:تمھیں حدیث کیسے معلوم ہو سکتی ہے،تم تو ہمیشہ آئینے دیکھنے اور کنگھی سے بال سنوارنے میں مشغول رہتی تھیں اور میں ہمہ وقت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامنِ علم سے وابستہ رہتا تھا،اس وجہ سے مجھ کو زیادہ سے زیادہ حدیثیں یاد رہیں۔[1] ہمارے طلبا اس واقعے سے کیا عبرت حاصل کر سکتے ہیں کہ وہ شب و روز فیشن کی تیاری میں اور کپڑوں پر پریس کرنے میں کتنا وقت ضائع کرتے ہیں اور اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔غریب لڑکا اگر جی لگا کر پڑھے تو وہ بہت بڑا علامہ [1] طبقات ابن سعد(۲؍۳۶۳) الإصابۃ لابن حجر(۷؍۴۴۰)