کتاب: دینی تعلیم و تربیت کے اصول و آداب - صفحہ 88
گلاس سے ہٹا لیا اور کہا:یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم!’’اے اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!میں اپنے شکم میں دودھ پینے کے لیے اب گنجایش نہیں پاتا۔‘‘[1] سنن بیہقی میں دوسری روایت یوں ہے کہ اصحابِ صفہ کے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سردار تھے،انھوں نے بھری مسجد میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اور اپنی بھوک کی شکایت کی۔ساتھ یہ بھی کہا کہ کھجور کھاتے کھاتے ہمارے پیٹ اب جلنے لگے ہیں،ہمارے لیے کسی دوسری چیز کا انتظام کر دیجیے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اس گزارش کو سن کر فرمایا: ’’اے میرے صحابہ!اگر میں قدرت رکھتا تو تم کو روزانہ گوشت روٹی کھلاتا،مگر واﷲ یہ بات بھی سراسر حقیقت ہے کہ تمھارا آج کا دن کل کے دن سے بہتر ہے۔کل ایسا دن بھی آئے گا کہ تم پر رنگ برنگ کے پیالے اور قسم قسم کے کھانے پیش کیے جائیں گے،لیکن اس دن کے مقابل آج کا دن سادگی اور فقر و فاقہ کے باوجود کل سے بہتر ہے۔‘‘[2](سنن کبریٰ بیہقی) اس واقعے سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کی غربت و مسکنت کا حال معلوم ہوا،ان پاک نفوس نے سخت فاقہ کشی کے عالم میں بھی علمِ دین کو حاصل کیا۔ ایک بار حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:’’أَنَا أَوَّل صَاحِب حَدِیْث فِيْ الدُّنْیَا‘‘ ’’یعنی اس دنیا کے اندر میں پہلا اہلِ حدیث میں ہوں۔‘‘ [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث(۶۰۸۷) [2] سنن البیھقي(۲؍۴۴۵)