کتاب: دینی تعلیم و تربیت کے اصول و آداب - صفحہ 86
لائق شاگرد کو اپنی شفقت و محبت اور بہترین تربیت سے کب محروم کر سکتا ہے؟ اپنے چشمۂ علم سے اسے ہر ممکن طور سے سیراب کرے گا۔ استاد کی محبت و اخلاص کا ایک اور بے مثال واقعہ مآثر الکلام میں مَیں نے یہ واقعہ پڑھا ہے کہ کسی استاد کی بیوی کے لیے مولی کا کھانا بہت ضروری تھا،ان کو دردِ شکم کی وجہ سے بہت تکلیف تھی۔استاد نے ایک وفادار شاگرد کو کہا کہ بھائی میری رفیقۂ حیات دردِ شکم کی وجہ سے بہت بے چین ہے،اگر تم سے ہو سکے تو کہیں سے مولی تلاش کر کے لے آؤ،چنانچہ شاگرد قصبے میں نکلا،کئی جگہ تلاش کیا،پتا لگایا،مگر نہیں پائی،کیوں کہ اس وقت مولی کا موسم نہیں تھا۔نامراد ہو کر ایک جگہ غمزدہ ہو کر بیٹھ گیا اور رونے لگا۔ ایک گزرنے والے نے طالب علم سے رونے کا سبب دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ میرے استاد کو مولی چاہیے،میں اس کی تلاش میں نکلا تھا اور نہیں پائی۔بہت پریشان ہوں۔آخر یہ بات ایک ایسے گھر تک پہنچی جس کے ایک گوشے میں کچھ مولیاں لگی ہوئی تھیں،اس نے پریشان طالب کو بلایا اور کہا:غم نہ کرو،دو تین مولیاں جو تم چاہو،لے جاؤ اور اپنے استاد کی خدمت میں پیش کرو۔طالب علم خوش ہو گیا اور دو مولیاں اکھاڑ کر استاد کی خدمت میں پیش کر دیں۔استاد کی مراد پوری ہوئی۔استاد نے اپنے اس لائق و مطیع شاگرد کو بہت بہت دعائیں دیں۔ اب اس واقعہ میں دیکھنا یہ ہے کہ اب ایسے طلبہ کہاں ہیں جو اپنے استاد کی بیوی کے علاج کے لیے دیوانہ وار بازاروں اور قصبوں میں پھریں اور جب مولی نہ