کتاب: دینی تعلیم و تربیت کے اصول و آداب - صفحہ 84
کا احاطہ چھوڑ کر میں کبھی باہر نہیں نکلتا تھا۔صرف ایک دفعہ جب علامہ اقبال رحمہ اللہ اندلس کے سفر میں مسجدِ اقصیٰ میں نماز پڑھ کر ہندوستان تشریف لائے تھے اور دہلی کی جامعہ ملیہ میں ان کی تقریر کا پروگرام ہوا تھا،باہر نکلا تھا۔ منشی جی سے کہہ کر عشا کے وقت جامعہ ملیہ قرول باغ کی طرف چند ساتھیوں کے ساتھ روانہ ہوا،چونکہ میرا معمول تھا کہ ماہ میں صرف ایک بار جامع مسجد چلا جایا کرتا تھا،وہاں سے کچھ نادر کتابیں دس آنے میں برائے مطالعہ دارقطنی اور کبھی مسند دارمی لے آتا تھا۔ ایک جمعہ واپسی کے وقت میں نے دیکھا کہ گھنٹہ گھر سے پرانے دہلی اسٹیشن کی طرف جو راستہ جاتا ہے،وہاں ایک بڑا اجتماع ہے۔میں بھی اسی شوق سے چلا گیا کہ دیکھیں وہاں کیسا اجتماع ہے؟ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ مفتی کفایت اﷲ صاحب کوئی تقریر کر رہے ہیں اور گورنمنٹ کے افسران اسے بند کرانے کی فکر کر رہے ہیں،لیکن تشدد نہیں برت رہے ہیں۔دو ایک افسران نے تقریر بند کرانا چاہی،لیکن مولانا صاحب تقریر سے نہیں رکے تو ایک بڑا افسر جوتا پہنے ہوئے تخت پر چڑھ گیا اور جا کر مولانا کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ وہاں ان کے وفادار شاگرد بیٹھے ہوئے تھے،ایک شاگرد فوراً اٹھا اور اس افسر کے ہاتھ کو جھٹک دیا اور مولانا کو بچانا چاہا۔مولانا تو شاید مار پیٹ سے محفوظ رہے،لیکن اس نوجوان طالب علم کو میرے سامنے ہی دسیوں سپاہیوں نے مارنا شروع کر دیا اور پھر ہوائی فائرنگ شروع ہو گئی،لوگ تتر بتر ہو گئے۔میں بھی منتشر ہو کر مدرسہ رحمانیہ چلا آیا اور دل میں یہ سوزو گداز اب تک باقی ہے کہ اس طالب علم کا کیا حال ہوا؟ اﷲ تعالیٰ اس کو اپنے استاد کی خدمت اور اعانت و نصرت