کتاب: دینی تعلیم و تربیت کے اصول و آداب - صفحہ 75
علامہ قسطلانی رحمہ اللہ نے مقدمہ ارشاد الساری،جلد1،صفحہ:31 میں،حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مقدمہ فتح الباری صفحہ:563 میں اور تہذیب التہذیب جلد9،صفحہ:47 پر،علامہ نووی رحمہ اللہ نے تہذیب الاسما واللغات جلد1،صفحہ:67 میں،امام سبکی رحمہ اللہ نے طبقات الشافعیہ،جلد2،صفحہ:2 میں،خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ بغداد،جلد2 صفحہ:4 میں اور بہت سے مورخین ابن خلکان و ذہبی وغیرہم نے اپنی اپنی کتابوں میں امام بخاری رحمہ اللہ کی والدہ کی تربیت اور دعاؤں اور ان کی اصلاحِ حال اور علوم و فنون میں ترقی پانے کا حال بیان کیا ہے۔[1] شیخ الحدیث حضرت مولانا عبیداﷲ صاحب رحمانی حفظہ اللہ امام بخاری کا تذکرہ ان شاندار الفاظ میں کرتے ہیں: امام بخاری رحمہ اللہ صاحب الجامع الصحیح والتصانیف حفظ کے پہاڑ اور فقاہتِ حدیث میں بے نظیر،دنیا کے امام،ذہن کی تیزی،دقتِ نظر،کمال زہد،غایتِ تقویٰ،قوتِ اجتہاد اور استنباط مسائل کے اعتبار سے بھی امتِ محمدیہ میں بے نظیر و بے مثال تھے۔ حضرت مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی پر ماں کی تربیت اور نیک دعاؤں کے اثرات حضرت مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی حفظہ اللہ پر ماں کی تربیتِ صالحہ اور دعواتِ مبارکہ کے کافی گہرے اثرات و برکات ہیں۔یہ اپنی والدہ صاحبہ کے اکلوتے فرزند ہیں۔ڈاکٹر عبدالعلی مرحوم دوسری ماں سے پیدا ہوئے،لیکن [1] ’’مرعاۃ المفاتیح‘‘ مولفہ:مولانا عبیداﷲ مبارک پوری،مطبوعہ جامعہ سلفیہ بنارس(صفحہ:10)