کتاب: دینی تعلیم و تربیت کے اصول و آداب - صفحہ 73
تربیت کے ذریعے اپنے بچوں کی عادات و اطوار ٹھیک کریں۔اخلاق و کر دار کو سنبھالیں۔ہزاروں برائیاں بچوں میں اس لیے داخل ہو جاتی ہیں کہ وہ ان برائیوں اور اخلاقی کمزوریوں میں اپنے والدین کو مبتلا پاتے ہیں۔ماں بیٹے اور ماں بیٹی سے دل کش اور پاکیزہ تربیت اور تعمیر کسی او رسے ممکن نہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ کی ماں کی تربیت اور دعواتِ صالحہ کے امام بخاری رحمہ اللہ پر مبارک اثرات امام بخاری رحمہ اللہ کی والدہ بڑی عابدہ اور صاحبِ کرامات تھیں۔خدا سے دعا کرنا،رونا،عاجزی کرنا ان کا وتیرۂ خاص تھا۔ امام بخاری کی آنکھیں صغر سنی میں خراب ہو گئی تھیں۔بصارت جاتی رہی۔اطبا علاج سے عاجز آئے تو امام بخاری کی والدہ نے حضرت ابراہیمu کو خواب میں دیکھا کہ وہ فرما رہے ہیں کہ تمھارے رونے اور دعا کرنے سے تمہارے بیٹے کی آنکھیں خدا نے درست کر دیں۔وہ کہتی ہیں کہ جس شب کو میں نے خواب دیکھا،اسی صبح میرے بیٹے(محمد) کی آنکھیں درست ہو گئیں،روشنی پلٹ آئی اور وہ بینا ہو گئے۔ افسوس بینائی جانے کی کیفیت اور اس کا سبب مفصل معلوم نہ ہو سکا،لیکن پلٹنے کے بعد اس بینائی کی قوت اس درجہ پہنچی کہ چاندنی راتوں میں اپنی کتاب تاریخ کبیر کا مسودہ لکھا۔[1] شہر بخارا کے آباد اور بارونق و شاندار ہونے کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا [1] ’’سیرۃ البخاری‘‘ مصنفہ:مولانا عبدالسلام صاحب مبارکپوری اعظم گڑھی(ص:42)۔