کتاب: دینی تعلیم و تربیت کے اصول و آداب - صفحہ 64
مرا داد ایں خرد پرور جنونے نگاہِ مادرِ پاک اندرونے ’’مجھ کو میری ماں کی پاک نگاہ نے یہ خرد پرور جنوں عطا کیا۔‘‘ علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ قوم کا اصل سرمایہ ہمارے یہی تربیت یافتہ نوجوان ہوتے ہیں،ان کے مقابلے میں نقد،ہیرے جواہرات اور مادی دولت کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتیں۔وہ فرماتے ہیں ع قوم را سرمایہ اے صاحبِ نظر نیست از نقد و قماش وسیم و زر مال او فرزند ہائے تندرست تر دماغ و سخت کوش و چاک و سست یعنی قوم کا اصل سرمایہ نقد کپڑے،سونے اور چاندی نہیں ہیں،بلکہ اصل سرمایہ وہ نوجوان لڑکے ہیں جن میں ادب و تہذیب اور روحانیت موجود ہو اور وہ محنتی اور مستعد مجاہد ہوں۔ ماں کی تربیت کا اثر والدین کو بالخصوص ماں کو اولاد کی صحیح تربیت میں بڑا دخل ہے،اسی لیے ماں کی گود پہلا مدرسہ کہا گیا ہے۔تعلیم و تربیت کے سلسلے میں جس اولاد کو اپنی ماں کی صحیح تربیت حاصل رہی ہے،وہ اپنے دور میں گوہرِ گراں مایہ بن کر چمکے اور ان کی نیک دعاؤں اور صحیح تربیت کی وجہ سے وہ لعل و گہر بنے،لیکن جس اولاد کو اس نعمت سے حرماں نصیبی رہی،وہ جہل و ضلالت اور گمراہی کی نذر ہو گئے،وہ دنیا کی بدیوں