کتاب: دینی تعلیم و تربیت کے اصول و آداب - صفحہ 58
آج کیسے جا سکتے ہو؟ بارش ہو رہی ہے،پھر انھوں نے کہا:دیکھو یہ حلوان بچہ بندھا ہوا ہے،ابھی آج ذبح ہو گا،آج اس کا گوشت کھا لو،کل چلے جاؤ۔ میں نے کہا:کل سے جامعہ رحمانیہ کا درس شروع ہے،میں ناغہ نہیں کر سکتا اور میں نے ان سے کہا کہ مجھے ایک چوکیدار چاہیے جو میرے اوپر چھتری لے کر چلے۔چچا صاحب نے رکنے پر اصرار کیا،میں نے پھر ٹھہرنے سے معذرت کی اور راہنما آدمی مانگا،انھوں نے دو آدمی دیے،ایک وہ جو میرے ساتھ رہے اور سامان اٹھائے رکھے اور ایک وہ جو میرے اوپر چھتری لگا کر چلے۔ ہم اسی حالت میں چلتے ہوئے بہادر گنج کے ایک سرہی نالہ پر پہنچ گئے۔ایک ہندو سادھو مجھے دیکھ کر ’’جے سیارام!جے سیارام!‘‘ کہنے لگا،میں نے پوچھا:ندی میں باڑھ تو نہیں آئی؟ سیلاب تو نہیں ہے؟ اس نے کہا:ابھی سیلاب نہیں ہے۔ میں ان دونوں آدمیوں کے ساتھ ندی میں چلنے لگا۔جب ندی میں میرے پاؤں اٹھنے لگے اور بوجھل معلوم ہونے لگے تو میں نے رخ پھیر لیا اور دونوں آدمیوں کے ساتھ ندی سے باہر نکل آیا۔پھر ریلوے لائن پکڑنے کے لیے گھوم کر موضع گلری آیا،وہاں سے ریلوے لائن قریب ہے۔ریلوے لائن پکڑ کر آدھے گھنٹے میں مدرسہ جھنڈا نگر آ گیا۔محترم والد صاحب سے سامنا ہوا تو میں نے سلام کے لیے ہاتھ بڑھایا۔وہ کتاب و سنت کے شیدائی تھے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کا ان کو بڑا ہی لحاظ و احترام تھا۔ میں نے جوانی کے عالم میں کچھ ڈاڑھی کٹائی تھی اور خیال نہیں تھا کہ اس پر مجھے سرزنش ہو گی۔جب میں ان کے مقابل ہوا تو انھوں نے سلام سے