کتاب: دینی تعلیم و تربیت کے اصول و آداب - صفحہ 47
حصولِ علم کے لیے آزمایش یہ دنیا دار العمل بھی ہے اور دار العلم بھی۔یہاں امتحانات بھی ہوتے ہیں اور آزمایشیں بھی۔امتحان و آزمایش میں پورے اُترنے والوں اور صبر و سکون سے کام کرنے والوں کے درجات بلند ہوتے ہیں،جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾[الزمر:۱۰] ’’امتحانات میں صبر و ضبط کرنے والے مومن بندے خدا کی جانب سے بے حساب اجر و ثواب پائیں گے۔‘‘ نیز اہلِ علم کے بارے میں ارشاد ہوا: ﴿يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ﴾[المجادلۃ:۱۱] ’’تم میں سے جو مومن اور اہلِ علم حضرات ہیں،خدا ان کے درجات و مراتب کو بلند فرمائے گا۔‘‘ امام بخاری رحمہ اللہ کے نام اور ان کی علمی خدمات سے آج کوئی پڑھا لکھا شخص ناواقف نہیں ہے،لیکن ان کی محنت اور علم کے راستے میں مشقت اٹھانے کے حالات سے اکثر لوگ بے خبر ہیں۔انھوں نے عرب دنیا کی خاک چھانی اور ہر شہر اور علما کے مرکز میں پہنچ کر ان کی خوشہ چینی کی،پھر وہ امامِ زمانہ بنے،ان کو ’’جبل الحفظ‘‘