کتاب: دینی تعلیم و تربیت کے اصول و آداب - صفحہ 43
کو کہیں میسر نہ آ سکتی تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پدرانہ محبت اور نبوی تربیت کے عظیم اور خوش گوار تجربات نے زید کی فطرت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے وابستہ کر دیا تھا۔ زید کے باپ حارثہ امام المربین صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔زید کی قیمتِ خرید سے زیادہ قیمت دے کر انھیں لے جانے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر زید آپ کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو تو آپ لے جائیں،اس کی کوئی قیمت نہیں اور اگر تیار نہیں تو میں کوئی زور نہیں ڈال سکتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو طلب فرمایا اور کہا:یہ تمھارے باپ ہیں،تمھیں لینے کے لیے آئے ہیں: ’’إِنْ شِئْتَ فَأَقِمْ عِنْدِيْ،وَإِنْ شِئْتَ فَانْطَلَقَ مَعَ أَبِیْکَ،فَقَالَ:بَلْ أُقِیْمُ عِنْدَکَ‘‘ ’’اگر تم چاہو تو میرے پاس رہو اور چاہو تو اپنے باپ کے ساتھ چلے جاؤ۔زید نے کہا:میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے پاس رہوں گا۔‘‘ فداہ أمي وأبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ امام المربین صلی اللہ علیہ وسلم سے زید کی والہانہ وابستگی کو دیکھ کر حارثہ بھی نقدِ دل ہار گئے اور دلی مسرت کے ساتھ انھیں محسنِ عالم کی تربیت میں چھوڑ گئے۔[1] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تربیتِ نبوی کے اثرات: رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پرحکمت تعلیمات اور تربیت و تزکیہ کا خاطر خواہ اثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر پڑا۔اصحابِ کرام سے،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت سے [1] السیرۃ النبویہ لابن ہشام،بحوالہ اسلامی تربیت(ص:۱۵۸)،مطبوعہ ادارۃ البحوث الاسلامیہ والدعوۃ والافتاء بالجامعۃ الاسلامیہ،بنارس۔