کتاب: دینی تعلیم و تربیت کے اصول و آداب - صفحہ 41
تحفہ دیا،میں بطور تحفہ اپنے لڑکے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے پیش کرتی ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ہر طرح کی خدمت لے سکتے ہیں۔‘‘ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو اپنی خدمت میں رکھا اور جہاں چاہا بھیجا۔یہ قاصد بن کر گئے اور کام کر آئے۔وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کی مثال پیش کرتے ہیں: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی مجھے ڈانٹا،نہ کبھی مجھ پر غصہ ہوئے اور نہ کبھی کسی کام کے نہ کرنے پر مجھے تنبیہ کی۔ہر طرح میری دلجوئی فرماتے رہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رازدارانہ باتوں کو میں راز میں رکھتا رہا۔میری ماں دیر سے پہنچنے کا سبب پوچھتیں تو میں کہتا:رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ بھیجا تھا،اس کام کے انجام دینے میں تاخیر ہو گئی۔ماں نے پوچھا:وہ کیا کام تھا؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا:وہ ایک راز ہے جو میں کسی سے نہیں کہوں گا۔ماں نے کہا:ہاں بیٹا رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو اپنے سینے میں پوشیدہ رکھو۔‘‘[1] اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدمت گزار آپ کی تعلیم و تربیت سے سدھر جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرغوبات کو خود بھی استعمال کرتے تھے۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوکی(کدو) کا شوربہ پسند تھا تو حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی پسند فرماتے تھے۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت سے حضرت انس رضی اللہ عنہ بالکل اخلاقِ نبوی میں ڈھل گئے تھے۔ [1] الأدب المفرد(۱؍۳۹۵) مسند أحمد(۳؍۱۹۵)