کتاب: دینی تعلیم و تربیت کے اصول و آداب - صفحہ 39
((بُعِثْتُ مُعَلِّماً)) [1] ’’میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت کے اثرات ایک واقعہ: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی اچھی تعلیم و تربیت ہی میں گزری ہے۔’’الخصائص الکبریٰ‘‘ میں علامہ سیوطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ایک نوجوان شخص نے مسجدِ نبوی میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں اسلام کی سب شرطیں قبول کرتا ہوں اور ان پر عمل کروں گا،مگر مجھے زنا کی اجازت دے دی جائے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے ڈانٹنا شروع کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نرمی سے بلایا اور فرمایا: تو کس عورت سے زنا کرے گا؟ کیا اپنی ماں سے زنا کرے گا؟ کہا:حضور!ماں سے زنا کون کر سکتا ہے؟ فرمایا:اپنی خالہ سے زنا کرے گا؟ کہا:یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم!خالہ سے کون زنا کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنی بہن سے زنا کرے گا؟ کہا:یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم!اپنی بہن سے کون زنا کرے گا؟ فرمایا:اپنی پھوپھی سے زنا کرے گا؟ کہا:یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم!اپنی پھوپھی سے کون زنا کرے گا؟ [1] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث(۲۲۹) سنن الدارمي(۱؍۱۱۱) اس کی سند میں دو راوی عبدالرحمان بن زیاد افریقی اور عبدالرحمان بن رافع ضعیف ہیں۔مزید تفصیل کے لیے دیکھیں:سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ(۱۱)