کتاب: دینی تعلیم و تربیت کے اصول و آداب - صفحہ 29
اسی کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا سکھلائی: ﴿وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾[طٰہٰ:۱۱۴] ’’اور کہہ اے میرے رب!مجھے علم میں زیادہ کر۔‘‘ علامہ قرطبی فرماتے ہیں: ’’لَوْ کَانَ شَیْئٌ أَشْرَفَ مِنَ الْعِلْمِ لَأَمَرَ اللّٰہُ تَعَالیٰ نَبِیَّہ صلی اللّٰه علیہ وسلم أَنْ یَّسْأَلَہُ الْمَزِیْدُ مِنْہُ کَمَا أَمَرَ أَنْ یَّسْتَزِیْدَہُ مِنَ الْعِلْمِ‘‘ ’’اگر علم سے افضل کوئی دوسری چیز ہوتی تو اﷲ تعالیٰ اپنے نبی کو اس میں اضافے کے لیے دعا کا اسی طرح حکم دیتے،جیسا کہ علم میں اضافے کے لیے ترغیب دلائی ہے۔‘‘ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((خَیْرُکُمْ مَّنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہُ)) [1] ’’تم میں سے بہتر وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور دوسروں کو سکھلایا۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ارشاد فرمایا: ((إِنَّ أَفْضَلَکُمْ مَّنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہُ)) [2] ’’یقیناً تم میں سے سب سے افضل وہ ہے جس نے قرآن کا علم حاصل کیا اور دوسروں کو اس کی تعلیم دی۔‘‘ قرآن و حدیث کا علم ہی حقیقی علم ہے جس کے طالب کو انبیا علیہم السلام کا وارث قرار دیا گیا ہے،جس کے حصول کے لیے گھر سے نکلنے والے خوش نصیب [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث(۵۰۲۷) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث(۵۰۲۸)