کتاب: دینی تعلیم و تربیت کے اصول و آداب - صفحہ 23
پابندی کے ساتھ ادا کرنی چاہیے اور اپنے اہلِ خانہ کو بھی نماز اہتمام کے ساتھ ادا کرنے کا عادی بنانا چاہیے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا﴾ [طٰہٰ:۱۳۲] ’’اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور اس پر خوب پابند رہ۔‘‘ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مُرُوْا أَوْلَادَکُمْ بِالصَّلَاۃِ وَھُمْ أَبْنَائُ سَبْعِ سِنِیْنَ،وَاضْرِبُوْھُمْ عَلَیْھَا وَھُمْ أَبْنَائُ عَشْرِ سِنِیْنَ)) [1] ’’تمھارے بچے جب سات سال کے ہو جائیں تو انھیں نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب دس سال کے ہو جائیں تو نماز میں کوتاہی پر انھیں سزا دو۔‘‘ تربیت کی مثال: حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بچپن میں جب کہ میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیرِ نگرانی پرورش پا رہا تھا اور کھاتے وقت میرا ہاتھ کھانے کے میں ہر طرف گھوما کرتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ((یَا غُلَامُ!سَمِّ اللّٰہَ،وَکُلْ بِیَمِیْنِکَ،وَکُلْ مِمَّا یَلِیْکَ)) [2] ’’اے لڑکے!بسم اﷲ پڑھو،داہنے ہاتھ کے ساتھ کھاؤ اور اپنے آگے سے کھاؤ۔‘‘ عمر بن ابن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
[1] مسند أحمد،أبو داود،صحیح الجامع للألباني(۵۸۶۸) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث(۵۳۷۶) صحیح مسلم،رقم الحدیث(۲۰۲۲)