کتاب: دینی تعلیم و تربیت کے اصول و آداب - صفحہ 15
اپنے ماتحت لوگوں کی تربیت و اصلاح میں کوتاہی کی سزا: حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ عَبْدٍ اسْتَرْعَاہُ اللّٰہُ رَعِیِّۃً،فَلَمْ یُحِطْھَا بِنُصْحِہِ،إِلَّا لَمْ یَجِدْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ)) [1] ’’جس شخص کو اﷲ تعالیٰ نے رعایا کا حاکم و محافظ بنایا اور اس نے بھلائی اور خیر خواہی کے تقاضوں کے مطابق اپنی ذمے داری پوری نہ کی تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا۔‘‘ شیخ صالح العثیمین رحمہ اللہ مذکورہ بالا حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں: ’’حدیثِ پاک(رعایتِ کبریٰ) یعنی حکومتی ذمے داری اور(رعایتِ صغریٰ) یعنی گھریلو ذمے داری دونوں پر مشتمل ہے،کیوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِيْ أَھْلِ بَیْتِہِ،وَھُوَ مَسْؤلٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ)) ’’ہر شخص اپنے اہلِ خانہ کا سرپرست اور ذمے دار ہے،اس کی رعیت کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا۔‘‘ ’’لہٰذا اس حدیث کی روشنی میں جو اپنے گھر میں ڈش انٹینا جیسی مصیبت چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوا تو یہ اس کے لیے جنت سے محرومی کا سبب بن جائے گا،یعنی اگر کوئی شخص فحاشی کا سبب بننے والے آلات اپنی زندگی میں اپنے گھر میں نصب کرتا ہے تو اس کے
[1] صحیح البخاري،رقم الحدیث(۷۱۵۰) صحیح مسلم،رقم الحدیث(۱۴۲)