کتاب: دینی تعلیم و تربیت کے اصول و آداب - صفحہ 115
فرمایا:آنکھوں کے پپوٹے میں تیل لگا دو۔یہ سنت ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے پپوٹے میں تیل لگوایا تھا۔میں نے کہا:یہ کس کتاب کے حوالے سے آپ فرما رہے ہیں ؟ آپ نے جواب دیا:امام نووی رحمہ اللہ کی کتاب ’’کتاب الاذکار‘‘ میں یہ روایت موجود ہے،اس وقت سے اس کتاب کا حوالہ مجھے یاد رہا۔جب 1959ء میں سفرِ حج کو مکہ مکرمہ گیا تو وہاں کتب خانوں میں اس کتاب کو تلاش کیا،جب یہ کتاب مل گئی تو میں نے خرید لیا اور اس میں پپوٹوں پر تیل لگانے کی روایت مل گئی۔ بہرحال اس طرح میں مسلسل دو برس تک چارپائی نکالتا،اٹھاتا اور بچھاتا رہا اور خدمت کرتا رہا،اسی طرح ان کے تمام خطوط بھی لکھتا رہا اور جامع مسجد دہلی سے ان کی بعض خرید کردہ کتابیں لے کر آتا تھا۔مولانا مرحوم نے مولانا نور محمد مالک اصح المطابع دہلی کے نام جو خط تحریر فرمایا تھا اور اس میں ان کی سعی مشکور کے لیے جو دعا کی تھی،اس کو مولانا نور محمد صاحب نے بہت پسند فرمایا تھا اور خوشی کا اظہار کیا تھا۔قرآن پاک میں یہ ایک دعائیہ آیتِ کریمہ ہے:﴿وَكَانَ سَعْيُكُمْ مَشْكُورًا﴾[الدھر:۲۲] ’’یعنی تمھاری سعی جمیل کی قدر دانی کی جائے گی۔‘‘ تو میں بھی اس آیتِ کریمہ کو اکثر صاحبِ فیض و کرم کو توجہ دلانے کے لیے لکھتا ہوں۔ بہرحال مولانا کی خدمت گزاری میں مَیں حتی الامکان منہمک رہا اور اس کو اپنے لیے عار نہیں محسوس کیا،بلکہ باعثِ فخر و سعادت تصور کیا۔ جس سال میں وہاں آٹھویں جماعت پڑھ کر فارغ ہو رہا تھا تو ختمِ نبوت