کتاب: دینی تعلیم و تربیت کے اصول و آداب - صفحہ 107
نکلی تھی کہ مولانا تڑپ اٹھے اور ناراضی کے لہجے میں کہنے لگے کہ ’’کہتے ہو مولوی ثناء اﷲ!اتنے بڑے زبردست عالمِ جماعت کو،جن کی مثال پوری جماعت اہلِ حدیث میں نہیں ہے۔تم اس طرح خفیف لقب سے ان کا نام لیتے ہو،تمھیں شرم و غیرت نہیں آتی کہ ہر دیوبندی عالم اپنے علما کے لیے اچھے القاب و آداب کی آگے پیچھے دو دو سطریں استعمال کرتا ہے؟!‘‘ یہ سن کر میں شرم و غیرت سے ڈوب گیا۔مولانا کی اس قیمتی نصیحت اور صحیح تربیت کے سبب میری آنکھوں میں روشنی آگئی اور ہمیشہ کے لیے اپنے آپ کو سنبھال لیا اور آیندہ سے مولانا مرحوم کا ذکرِ جمیل پورے القاب و آداب سے بالالتزام کرنے لگا۔ اﷲ تعالیٰ ایسے مربی و محسن کو پیدا کرے جو آج کے موجودہ غیر تربیت یافتہ طالب علموں کو تربیت دیتے ہوئے ان کی غیرت کو جھنجھوڑیں جس سے وہ اپنے آپ کو سنبھال سکیں۔ علامہ اقبال لکھتے ہیں کہ جب کوئی طالب علم بدتمیزی،بے ادبی اور بدتہذیبی کی روش اختیار کرتا ہے تو میرا دن اجالا ہونے کے باوجود تاریک معلوم ہونے لگتا ہے۔وہ فرماتے ہیں ع نوجوانے را چوں بینم بے ادب روز من تاریک می گردد چوں شب یعنی کسی نوجوان کو جب میں بے ادب دیکھتا ہوں تو میرا دن،رات کی طرح تاریک ہو جاتا ہے۔